اسرائیل میں جرمن صدر گاؤک کے لیے اعزازی ڈگری | حالات حاضرہ | DW | 06.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل میں جرمن صدر گاؤک کے لیے اعزازی ڈگری

جرمن صدر یوآخم گاؤک نے اپنے دورہ اسرائیل کے دوران اتوار کے دن اپنے اسرائیلی ہم منصب رووین ریولین اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔

جرمن صدر یوآخم گاؤک جرمنی اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی کے پچاس برس پورے ہونے کے تناظر میں اسرائیل کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس موقع پر آج اتوار کے روز جرمن صدر کو یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر کی اعزازی ڈگری بھی گئی۔ انہیں یہ ڈگری عالمی سطح پر نسل پرستی کے خلاف ان کی کوششوں کے اعتراف میں دی گئی ہے۔ اس موقع سے گاؤک نے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ میری خواہش ہے کہ یہودی اور فلسطینی آپس کے معاملات میں امن تلاش کر لیں۔‘‘

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت میں یوآخم گاؤک نے کہا کہ برلن حکومت چاہتی ہے کہ امن مذاکرات میں تعطّل ختم ہو اور اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ علاقوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے سلسلے کو روکا جائے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس ملاقات میں یورپی کمیشن کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں تیار کی جانے والی اشیاء پر لیبلنگ کو لازمی قرار دینے کا معاملہ بھی زیر غور آیا یا نہیں۔ نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں یورپی کمیشن کے اس فیصلے کو اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ قرار دیا تھا۔

اسرائیلی صدر رووین ریولین اور وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ہونے والی ملاقاتوں میں خطے میں شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور مشرق وسطٰی امن بات چیت تھا۔ گاؤک کے بقول جرمنی اور اسرائیل تناؤ اور بے چین حالات میں اپنے سفارتی تعلقات کی گولڈن جوبلی منا رہے ہیں۔ اسرائیل پہنچنے پر رووین ریولین نے اپنے مہمان کا استقبال کیا اور اس موقع پر دونوں صدور ایک دوسرے سے بغلگیر بھی ہوئے۔

اس موقع پر روولین نے نازیوں کی جانب سے یہودیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی اور اسرائیل کے تعلقات پیچیدہ اور مشکل ہو گئے تھے۔ تاہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر آمادگی نے تعلقات کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مشرق وسطی کے دورے پر گئے ہوئے جرمن صدر آج اتوار کی شام اسرائیل سے اردن روانہ ہو جائیں گے۔