اسرائيلی وزيراعظم، کرپشن اور متنازعہ قانون: معاملہ کيا ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائيلی وزيراعظم، کرپشن اور متنازعہ قانون: معاملہ کيا ہے؟

اسرائيلی وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو کے خلاف کرپشن کے دو مختلف کيسز ميں تفتيش جاری ہے۔ اس سلسلے ميں ان کے خلاف عوامی احتجاج ميں بھی بتدريج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ نيتن ياہو اپنے خلاف تمام الزامات کو بے بنياد قرار ديتے ہيں۔

تقريباً بيس ہزار اسرائيلی باشندوں نے نيتن ياہو حکومت کے خلاف ہفتے دو دسمبر کے روز احتجاج کيا۔ اسرائيلی وزير اعظم کے خلاف ہر ہفتے احتجاج کيا جاتا ہے ليکن اس سلسلے ميں کيا جانے والا اب تک کا يہ سب سے بڑا احتجاج تھا۔ نيتن ياہو اپنے خلاف تمام کرپشن الزامات رد کرتے ہيں۔

چوتھی مدت کے ليے وزارت عظمی کے منصب پر براجمان بينجمن نيتن ياہو پر کرپشن کے دو بڑے الزامات ہيں۔ ايک معاملے ميں ان پر شک ہے کہ انہوں نے کاروباری شخصيات سے ’تحفے اور تحائف‘ وصول کيے، جبکہ ايک اور کيس ميں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے حوالے سے مثبت خبريں نشر کرنے کے ليے ايک اخبار کی ساتھ ڈيل کی اور اس کے بدلے ميں متعلقہ اخبار کے حريف اخبار کے خلاف اقدامات بھی کيے۔

ہفتے کو ہونے والے احتجاج کی وجہ ايک مجوزہ قانون بنا، جس کے بارے ميں خيال کيا جا رہا ہے کہ اس کی آئندہ ہفتے پارليمان سے منظوری ممکن ہے۔ اس قانون کے مسودے کے تحت منظور ہونے کی صورت ميں پوليس نيتن ياہو کے خلاف دونوں کيسوں کی تفتيش منظر عام پر نہيں لا سکتی۔ ناقدين کے مطابق يہ قانون صرف اور صرف نيتن ياہو کو بچانے کے ليے ہے تاکہ عوام کو وزير اعظم کی کرپشن کے بارے ميں تفصیلات سے آگہی نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس اس قانون کے حاميوں کا موقف ہے کہ اس کا مقصد مشتبہ افراد کے حقوق کا تحفظ ہے۔

وزير اعظم بينجمن نيتن ياہو کا کہنا ہے کہ انہيں اپنے ليے قانونی سازی ميں کوئی دلچسپی نہيں۔ وہ اپنے خلاف ان الزامات کو مسترد کرتے ہيں۔  دوسری جانب تفتیش کار اگر ان کے خلاف يہ الزامات ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس صورت میں ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں بینجمن نیتن یاہو کو منصبِ وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کے دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا۔

اشتہار