استعفیٰ نہیں دے رہا، امریکی وزیر خارجہ | حالات حاضرہ | DW | 27.07.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

استعفیٰ نہیں دے رہا، امریکی وزیر خارجہ

امریکا کے وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے اپنے منصب سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

امریکا کے وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ اختلاف کی وجہ سے اپنے منصب سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ امریکی میڈیا پر کہا جا رہا تھا کہ ٹلرسن صدر ٹرمپ سے اختلافات کے تناظر میں مستعفی ہو سکتے ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل کے بعد اب وزیر خارجہ کے ساتھ صدر ٹرمپ کے اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اس تناظر میں چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ ریکس ٹلرسن اپنے منصب سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔

’قطری رابطوں والے دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی گئی‘

قطر بحران: خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ امریکا میں

عرب ممالک قطر کے ساتھ اپنا تنازعہ حل کریں، امریکی وزیر خارجہ

 

اسی حوالے سے امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انہوں نے قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کو اپنے دفتر میں خوش آمدید کہنے کے موقع پر رپورٹرز کو بتایا کہ وہ کہیں نہیں جا رہے اور اپنے منصب پر براجمان ہیں۔

ٹلرسن نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اچھا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ وزارت خارجہ کا قلم دان اُس وقت تک سنبھالے رہیں گے جب تک صدر چاہیں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے بھی وزیر خارجہ کے مستعفی ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ٹلرسن نے جب سے وزارت خارجہ کا منصب سنبھالا ہے، انہیں وزارت خارجہ کے تیس فیصد بجٹ  کو کم کرنے کے منصوبے اور وزیرخارجہ کے وقار سے کم پروفائل رکھنے کی بنیاد پر میڈیا اور سیاسی حلقوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔

Kuwait US-Außenminister Rex Tillerson und Scheich Sabah Al-Khalid Al-Sabah in Kuwait-Stadt (picture-alliance/dpa/J. Abdulkhaleg)

جولائی میں امریکی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، کویت اور قطر کے دورے کیے تھے

امریکی ٹی وی چینل سی این این نے رواں ہفتے کے دوران ریکس ٹِلرسن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اختلافات کی خبریں دی تھیں۔ سی این این کے مطابق امریکا کی ایران پالیسی پر وائٹ ہاؤس میں ہونے والے تازہ اجلاس کے دوران ٹرمپ اور ٹلرسن میں اختلافات سامنے آئے تھے۔

ایسا بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ پینسٹھ سالہ وزیر خارجہ مسلسل دوروں سے بھی قدرے تھکن محسوس کرنے لگے ہیں۔ تیرہ جولائی کو خلیجی ملکوں کے دورے کے بعد انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ تھک گئے ہیں۔ ٹلرسن رواں برس فروری سے امریکا کے وزیر خارجہ چلے آ رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ ایکسون موبل کے چیرمین تھے۔ اس دورے کے حوالے سے بھی وہ کہہ چکے ہیں کہ بطور ایکسون موبل کے چیرمین، اُن کی زندگی خاصی آسان تھی۔

DW.COM