استاد فتح علی خان: ایک منفرد آواز خاموش ہو گئی | فن و ثقافت | DW | 04.01.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

استاد فتح علی خان: ایک منفرد آواز خاموش ہو گئی

کلاسیکی موسیقی کے معروف گلوکار استاد فتح علی خان بیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کا انتقال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ’پِمز‘ ہسپتال میں ہوا۔

Musikinstrument Tabla (AP)

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق استاد بڑے فتح علی خان گزشتہ دس دنوں سے PIMS ہسپتال میں زیر علاج  تھے۔ وہ پھیپھڑوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔ رپورٹوں کے مطابق ان کے جسد خاکی کو اسلام آباد سے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں کل جمعرات کے روز ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

استاد فتح علی خان 1935ء میں پٹیالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق  موسیقی کے پٹیالہ گھرانے سے تھا۔ وہ اس گھرانے کی چھٹی نسل سے تھے، جنہوں نے اپنے بھائیوں امانت علی خان اور حامد علی خان کی ساتھ موسیقی کی خاندانی میراث کو آگے بڑھایا۔ امانت علی خان اور فتح علی خان کم عمری میں ہی اس وقت کے برٹش انڈیا میں مشہور ہو چکے تھے۔ امانت علی خان اُس دور میں درباری گلوکار تھے۔

استاد فتح علی خان کو برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کا ایک اہم ترین گائیک قرار دیا جاتا تھا۔ 1969ء میں انہیں تمغہ حسن کارکردگی بھی دیا گیا تھا جبکہ اس کے علاوہ بھی انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا تھا۔ استاد فتح علی خان کے دو بیٹے پاکستان میں کلاسیکی موسیقی سکھاتے ہیں۔ استاد فتح علی خان اپنی گائیکی کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانے جاتے تھے اور انہوں نے مختلف ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا۔