اسامہ کی تلاش کے دس سال | حالات حاضرہ | DW | 23.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اسامہ کی تلاش کے دس سال

نیو یارک میں اگلے ماہ ایک نئی نمائش کا افتتاح ہونے جا رہا ہے، جس میں اسامہ بن لادن کی تلاش سے متعلق امریکی مہم کے بعض پوشیدہ پہلؤوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اسامہ بن لادن تک پہنچنے میں امریکا کو کئی برس لگے۔ پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ رہنما کی تلاش میں امریکی فوج اور انٹیلیجنس نیٹ ورک دس سال تک مصروف رہا۔ اس مہم میں کئی اتار چڑھاؤ بھی آئے جس کی کچھ تفصیل دنیا جانتی ہے اور کچھ امریکی حکام نے اب تک خفیہ رکھی ہیں۔

 لیکن اب پہلی بار امریکی حکومت کچھ دستاویزات اور دیگر مواد کی مدد سے اسامہ بن لادن کی تلاش کے بعض پوشیدہ پہلوؤں کو عوام کے سامنے لا رہی ہے۔

نمائش میں ملٹی میڈیا ذرائع سے ان لمحات کو دکھایا اور بیان کیا گیا ہے جب امریکی کمانڈوز نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں فوجی چھاؤنی کے قریب ایک گھر میں داخل ہوکر ہلاک کیا تھا۔ پاکستان ان دنوں سخت تنقید کی زد میں آیا تھا کہ امریکا کو مطلوب سب سے بڑا دہشگرد وہاں کیسے رہ رہا تھا۔ اس وقت پاکستان میں آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی چیف احمد شجاع پاشا تھے۔  

نمائش میں اصل آڈیو، وڈیو اور گرافکس کے ذریعے  وائٹ ہاؤس سے اس خفیہ آپریشن کی نگرانی کرنے والی صدر باراک اوباما کی ٹیم کے کردار پر بھی  روشنی ڈالی گئی ہے۔

لیکن نمائش میں صرف امریکی کامیابیوں کو ہی اجاگر نہیں کیا گیا۔ اس نمائش میں افغانستان میں اسامہ بن لادن کے غار کی تصاویر اور وہاں سے برآمد شدہ دیگر سامان رکھا گیا ہے اور کوتاہیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ اسامہ  وہاں سے امریکیوں کے ہاتھوں سے کیسے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔

نمائش میں اسامہ کی تلاش میں حائل مشکلات پر امریکی انٹیلیجنس، فوج اور انسداد دہشتگری ماہرین کے بیانات بھی شامل ہیں۔

نیویارک کے نائن الیون میموریل میوزیم میں اس نمائش کا آغاز پندرہ نومبر سے ہو گا۔

DW.COM

Audios and videos on the topic