ادویات کی قیمتوں میں اضافہ: غریبوں کے لئے مشکلات کا پیغام | معاشرہ | DW | 24.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ: غریبوں کے لئے مشکلات کا پیغام

60 سالہ حلیمہ بی بی اسلام آباد کے ایک میڈیکل اسٹور کے سامنے آنے جانے والوں کے منہ تک رہی ہے اور اس کی منتظر آنکھیں کسی خدا ترس انسان کو تلاش کر رہی ہیں۔

حکومت نے ایک بار پھر زندگی بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت نے ایک بار پھر زندگی بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

60 سالہ حلیمہ بی بی اسلام آباد کے ایک میڈیکل اسٹور کے سامنے آنے جانے والوں کے منہ تک رہی ہے اور اس کی منتظر آنکھیں کسی خدا ترس انسان کو تلاش کر رہی ہیں، جو اس کے ہاتھ میں موجود نسخے میں لکھی ادویات اسے دلا دے۔  اسکی منتظر آنکھیں انتظار سے پتھرا گئی ہیں لیکن کوئی اس کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

درد کی کہانی

مسائل میں گھری، جھنگ سے تعلق رکھنے والی یہ صرف حلیمہ بی بی ہی نہیں بلکہ ملک کے ہر چھوٹے بڑے میڈیکل اسٹور کے سامنے آپکو ایسے افراد مل جائیں گے، جو مہنگی دوائیاں نہیں خرید سکتے اور ہاتھ میں پرچہ لیے کسی مسیحا کے منتظر رہتے ہیں۔ کئی افراد ایسے بھی ہیں، جو بیمار بچوں کو لے کر ہاتھ میں ڈاکٹر کی دوائیوں یا ٹیسٹ کا نسخہ لیے گھومتے ہیں اور کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہیں۔

''میرا شوہر بیمار ہے۔ وہ دل اور شوگر کا مریض ہے۔ رشتے داروں کی مدد سے اپنا گھر چلا رہی ہوں لیکن وہ صرف کھانے پینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ علاج معالجے میں وہ کیسے مدد کر سکتے ہیں جب کہ وہ خود بھی مزدور ہیں۔‘‘ حلیمہ نے آنسو پونچھتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا۔

سندھ: سرکاری ادویات کی نجی میڈیکل اسٹورز پر فروخت

بھارت سے ادویات کی درآمد روکی گئی تو مسئلہ ہو گا، دوا ساز تنظیم

حلیمہ کا کہنا ہے کہ کسی دور میں ساری دوائیاں سرکاری اسپتالوں سے مفت مل جاتی تھی اور علاج بھی مفت ہوتا تھا: ''اب تو سرکاری اسپتالوں میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ ٹیسٹ باہر سے کرا کر لاؤ جب کہ ڈھیر ساری دوائیاں بھی لکھ دیتے ہیں، جو دن بدن مہنگی ہوتی جارہی ہیں اور غریب آدمی اب انہیں نہیں خرید سکتا۔‘‘

ماہرین صحت اورسیاست دانوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو عوامی مسائل کی کوئی فکر نہیں اور اس نے عوام کی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر زندگی بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

اضافہ کی حمایت

وزارت صحت کے ایک ذمہ دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر دوائیوں کی قیمتوں میں اضافے کو جائز اور مثبت قرار دیا۔ ڈی ڈبلیو کو ایک تحریری بیان میں اس اہلکار نے کہا، ''غیر حقیقت پسندانہ قیمتوں کی وجہ سے کئی دوائیوں کی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوگئی تھی اور انہیں بہت زیادہ قیمت پر بیچا جارہا تھا۔ اسی لیے حکومت نے فیصلہ کیا کہ ان کو مقامی سطح پر تیار کیا جائے، جس کے لیے یہ اضافہ ضروری تھا۔ ان دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہارڈشپ کیٹگری میں کیا گیا ہے تاکہ یہ آسانی سے میسر آسکیں۔ کچھ دواؤں کی قیمتیں 10 سال سے منجمد تھیں جبکہ اس دوران خام مال اور دوسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس فیصلے سے دوائیاں آسانی سے میسر بھی ہوں گی اور غیر معیاری دوائیوں کی فروخت بھی ختم ہوگی۔‘‘

پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ذکاء الرحمن کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دوائیوں کی کمپنیوں کو نہیں بلکہ عام آدمی کا فائدہ ہوگا: ''دوائیوں کی قلت کی وجہ سے عام آدمی کو نقصان ہو رہا تھا اور یہ فیصلہ تمام عوامل کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس اضافے کا فیصلہ فروری 2019ء میں ہوا تھا اور حکومت نے تمام مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے، جس کا اطلاق زندگی بچانے والے ادویات پر ہوگا۔ دوائیوں کی قیمتوں میں بین الاقوامی طور پر اضافہ ہوا ہے اور پاکستان میں دوائیں ابھی بھی دوسرے ممالک کی نسبت سستی ہیں۔‘‘

اضافے پر تنقید

تاہم سیاست دان اور ماہرین صحت اس اضافے کو نا انصافی سے تعبیر کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس کی وجہ سے غریب آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور ملک میں شرح اموات بھی بڑھ سکتی ہیں جب کہ کئی بیماریاں پیچیدہ شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سے وابستہ ڈاکٹر عبدالغفور شورہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو برانڈ سسٹم ختم کرنا چاہیے: ''پہلے ہی جو دوائی 30 پیسے کی ہونے چاہیے تھی وہ 16 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ جو انجیکشن 10 روپے کا ہونا چاہیے وہ سینکڑوں میں فروخت ہورہا ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی غریب ہے۔ کورونا کی وجہ سے غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تو اب اس اضافے کے بعد غریب آدمی کیسے دوائی خریدے گا۔ ابھی اس کو ایک بیماری ہوئی ہے اور اگر اس کو دوا پیسے کی وجہ سے نہیں مل سکی تو وہ ہی بیماری دوسری بیماریوں کو جنم دے گی۔ تو غریب مریضوں کے لیے یہ تباہ کن فیصلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے وہ برانڈ سسٹم ختم کرے اور جنیرک سسٹم لے کر آئے۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان میں 60 ملین سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں جبکہ کورونا اورمعاشی سست روی کی وجہ سے ایک کروڑ اسی لاکھ لوگ مزید غربت کا شکار ہوئے ہیں۔ سیاست دانوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے غریب صوبوں میں رہنے والے افراد کے لیے مشکلات مزید بڑھیں گی۔ نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر اکرم بلوچ کا کہنا ہے کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے، مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے:  ''غریب لوگ پہلے ہی علاج معالجے پر اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ خرچ کر رہے ہیں کیونکہ اچھی خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اب زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے غریب علاقوں میں شرح اموات بڑھیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دواؤں کی تیاری میں خود سرمایہ کاری کرے اور عوام کو سستی دوائیوں کی فراہمی یقینی بنائے۔‘‘