ادلب میں مشروط جنگ بندی، امریکا کی طرف سے خیر مقدم | حالات حاضرہ | DW | 04.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ادلب میں مشروط جنگ بندی، امریکا کی طرف سے خیر مقدم

امریکا نے شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں مشروط جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ شامی فورسز باغیوں کے زیر قبضہ اس علاقے میں گزشتہ کئی ماہ سے بھاری بمباری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی حکومت نے ادلب میں جنگ بندی کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے زور دیا ہے کہ شامی خانہ جنگی میں شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے زیادہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ شامی فورسز نے جمعے کی شب سے ادلب میں فضائی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔

امریکا نے مشروط طور پر کیے گئے اس نئے سیزفائر اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں پر حملوں کو فوری طور پر روک دینا چاہیے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے کہا، ''امریکا کو یقین ہے کہ شامی تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ایک سیاسی حل ہی پائیدار اور محفوظ شام کی ضمانت ہو سکتا ہے۔‘‘

اس نئی مشروط ڈیل کے تحت یہ بھی منظور کیا گیا ہے کہ باغیوں کا حامی ملک ترکی ادلب کے اس خطے میں ایک غیر فوجی علاقہ (بفر زون)  یقینی بنائے گا۔ ادلب کے زیادہ تر حصے جبکہ حما، حلب اور لاذقیہ کے کچھ حصوں پر اب بھی 'حیات التحریر الشام‘ نامی جہادی گروہ کا قبضہ ہے۔ اس جہادی گروہ کی قیادت شام میں دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے سابق جنگجوؤں کے ہاتھوں میں ہے۔

شام میں ان جہادیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں تین ملین افراد سکونت پذیر ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں ترکی اور روس کے مابین ہوئی ایک ڈیل کے تحت ان علاقوں میں شامی فورسز کی فضائی کارروائی کو محدود بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم رواں برس اپریل کے بعد شامی اور روسی فضائیہ نے ان علاقوں میں اپنی فوجی کارروائیاں بڑھا دی تھیں۔

شامی صدر بشار الاسد نے انقرہ حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ادلب کے اس ریجن میں بفر زون کے قیام میں ناکام ہو گیا ہے۔ ترکی اور روس کے مابین امن ڈیل کے تحت ترکی نے ادلب کے محاذ پر بیس کلو میٹر کا ایک غیر فوجی علاقہ یقینی بنانا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بھی اتفاق ہو گیا تھا کہ اطراف اس علاقے سے بھاری توپخانہ اور دیگر بڑے ہتھیار واپس لے جائیں گے۔ تاہم اس ڈیل کی تفصیلات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

غیر سرکاری ادارے 'سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے اعداد و شمار کے مطابق ادلب میں روسی حملوں کی وجہ سے اپریل کے اواخر سے اب تک سات سو نوے شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ برطانیہ میں قائم اس ادارے نے مزید بتایا ہے کہ اس مدت کے دوران ہونے والی لڑائی میں دو ہزار فائٹر بھی مارے جا چکے ہیں، جن میں سے نو سو کے قریب شامی فورسز کے اہلکار تھے۔

سن دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والے شامی تنازعے کے نتیجے میں اب تک کم ازکم تین لاکھ ستر ہزار افراد ہلاک جبکہ کئی لاکھ اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کی کوشش ہے کہ اس لڑائی کو روکنے کی خاطر پرامن راستہ تلاش کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایسی ہی کئی کوششوں کے باوجود یہ تنازعہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔

ع ب / م م / خبر رساں ادارے

DW.COM

Audios and videos on the topic