احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے آٹھ سوال | دستک | DW | 09.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے آٹھ سوال

اتوار کا روز جاری سیاسی بحران کے دوران واقعات سے بھرپور دن تھا۔ دفتر سے فون پر مطلع کیا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔ پھر مجھے کھانے کی فکر رہی نہ پینے کی۔

پریس کانفرنس کا ذکر سنتے ہی دماغ میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں معزز جج سے ممکنہ طور پر پوچھے جانے والے سوالوں کا جال بننا شروع ہوگیا اور تیزی سے گاڑی دوڑاتا جوڈیشل کمپلکس اسلام آباد جا پہنچا۔ ابھی ایک روز قبل چھ جولائی ہفتے کے روز لاہور میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے پریس کانفرنس کر کے احتساب عدالت کے اسی جج جناب ارشد ملک کی اپنے پارٹی کارکن ناصر بٹ کےساتھ کی گئی گفتگو کی آڈیو اور ویڈیو جاری کی تھی۔ یہ ریکارڈنگ خفیہ طو رپر کی گئی تھی۔ جس میں معزز جج کو مبینہ طور پر سابق وزیراعظم کے خلاف کیسز کے فیصلے کے پیچھے کارفرما دیگر واقعات بیان کرتے ہوئے سنایا گیا تھا۔ پریس کانفرنس کے متن کے ذریعے سابق وزیراعظم نوازشریف کو احتساب عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کو متنازعہ قرار دے دیا گیا تھا۔

اس مختصر سے پس منظر سے یہ بات واضع تھی کہ احتساب عدالت کے معزز جج جناب ارشد ملک مریم نوازکی طرف سے کی گئی پریس کانفرنس پر اظہار خیال کریں گے۔ عدالت کے احاطے کے اندر پہنچا تو پتا چلا کہ اتوار کی چھٹی کے باوجود سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ بعض سینئر پولیس اہلکار سادہ کپڑوں میں ہی وہاں پہنچے ہوئے تھے۔ ایک پولیس افسر نے استفسار پر بتایا کہ جج صاحب پریس کانفرنس نہیں پریس ریلیز لکھ کر جاری کریں گے۔ 

معزز جج کے کمرے کے باہر بھی کم و بیش آٹھ کے قریب پولیس اہلکار کھڑے تھے۔ دل میں خیال آیا کہ جج صاحب سے ملاقات ہی کر لوں۔ ایک پولیس اہلکار کو اپنا تعارف کروایا تو وہ جج کے کمرے میں چلا گیا۔ چند ہی لمحوں میں جج صاحب کے کمرے  کا دروازہ کھلا اور سفید کپڑوں میں ملبوس ایک لمبا تڑنگا شخص اندر برآمد ہوا۔ اس نے فون کان پر لگا رکھا تھا۔ میری طرف مڑنے کی بجائے اس نے راہداری میں مخالف سمت کا رخ اختیار کر لیا۔ یہ وہ راہداری ہے، جس کا دروازہ عمارت کی ایک طرف سے باہر کی جانب کھلتا ہے۔ عام طور پر اس راہداری کو خاص قیدیوں یا اہم شخصیات کی عدالت آمد کے موقع پر سکیورٹی تناظر میں ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی بجائے راہداری کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔ کچھ سمجھ نہ آئی یہ کون صاحب تھے؟

 اندر پیغام بھیجا گیا مگر جواب ندارد۔ سوچا باہر چل کر معزز جج سے ملاقات کرنے والے صاحب سے ہی مل لیتے ہیں۔ باہر نکلا، مذکورہ شخص کو تلاش کیا مگر وہ نجانے کہاں گم ہو چکا تھا۔ گرمی میں باہر کھڑا بھی نہیں ہو سکتے۔ واپس عدالتی احاطے میں چلا گیا۔  مختلف ٹی وی چینلزکے رپورٹر آپس میں تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔

کچھ میرے پاس بھی آ گئے۔ کسی نے بتایا کہ رات جج صاحب اپنے دونوں گھروں پر موجود نہیں تھے۔ ایک بولا جج صاحب نے دو شادیاں کر رکھی ہیں مگر رات کو دونوں گھروں پر تالے تھے۔ عدالتی رپورٹر بھی ججز کے بارے میں پوری خبر رکھتے ہیں۔ بعض تو ان سے خلوت میں اکثر ملاقاتیں بھی کرتے ہیں لہذا وہ کسی دوسرے شخص کی بہ نسبت بعض امور پر براہ راست اور زیادہ معلومات کے حامل بھی ہوتے ہیں۔

جج ارشد ملک ویسے بھی بھلے انسان ہیں۔ مجھے نوازشریف کے خلاف کیس اور اس وقت جاری جعلی اکاؤنٹس کیس میں انہیں عدالت میں دیکھنے اور سننے کا موقع مل چکا ہے۔ وہ انتہائی سنجیدہ موضوع پر بھی ماحول کو شائستہ بنانے کے لیے کوئی نہ کوئی چٹکلہ سنا ہی دیتے ہیں۔ چہرے پر سنجیدگی اور مسکراہٹ کے ملے جلے تاثرات ان کی شخصیت کا حصہ ہیں۔ پچھلے ہی ہفتے کی بات ہے، جعلی اکاونٹس کیس میں عدالت میں آصف علی زرداری ایک ملزم کے بارے میں ان معزز جج کو بتا رہے تھے کہ یہ جرائم پیشہ آدمی یا دہشت گرد نہیں۔ عدالت میں ماحول تلخ تھا۔ جج صاحب نے جواباﹰ کہا ،''یہ سماج دشمن عناصر ہیں۔‘‘

آصف زرداری بولے جناب یہ سماج دشمن اور دہشت گرد نہیں۔ جج ارشد ملک نے ماحول کو تلخی سے نکالنے کے لیے جھٹ سے اپنی میز کے سامنے کھڑے وکلاء کو ایک واقعہ سنانا شروع کر دیا۔ بولے میرے پاس کچھ ملزم تھے۔ انہیں میں نے سماج دشمن عناصر کہا تو وہ ملزم بولے جناب ہم سماج دشمن نہیں اناج دشمن ضرور ہیں۔ جج صاحب کے اس لطیفے سے کمرہ عدالت کے ماحول کی تلخی ایسی چھٹی کہ ہر کوئی قہقہے لگانے لگا۔ معزز جج عدالت میں کیسز کو سنجیدگی سے سنتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ ان کی شہرت کے بارے میں ابھی تک کوئی منفی بات بھی میرے نوٹس میں نہیں آئی۔

جج ارشد ملک کی ایسی ہی شخصیت میرے ذہن میں تھی اور سوچ  رہا تھا کہ جج صاحب پریس ریلیز میں کیا لکھیں گے۔ اسی اثنا میں جج صاحب کا پرائیویٹ سکریٹری ہاتھ میں پریس ریلیز تھامے عدالتی احاطے میں نمودار ہوا۔ مجھ سمیت تمام صحافی اس کی طرف لپکے اور فون کان پر لگا کر اپنے اپنے اداروں میں معزز جج کی پریس ریلیز رپورٹ کرنے لگے۔

جج ارشد ملک کی طرف سے پریس ریلیز پڑھ کر میں حیران رہ گیا۔ احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بار بار پریس ریلیز کا مطالعہ کیا۔ اس پریس ریلیز کا متن پڑھ کر میری سمجھ میں جو چند باتیں آئیں پہلے وہ بالترتیب آپ کے پیش نظر کرتا ہوں۔  

1۔ جج ارشد ملک نے مریم نواز کی پریس کانفرنس کو اپنے، اپنے خاندان اور ادارے کے خلاف  ایک سازش قرار دیا۔

2۔ جج ارشد ملک نے مسلم لیگ ن کے کارکن ناصر بٹ، جنہوں نے یہ ویڈیو بنائی یا بنوائی تھی، سے اپنے دیرینہ تعلق کا ذکر کیا۔ انہوں نے ناصر بٹ اور ان کے بھائی عبداللہ بٹ کے بارے میں یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ ان سے بے شمار مرتبہ مل چکے ہیں۔

3۔ پریس ریلیز میں جج ارشد ملک نے کہا کہ ویڈیو حقائق کے برعکس ہے اور مختلف مواقع پر کی جانے والی گفتگو کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔

4۔ معزز جج کی طرف سے یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ان کے نمائندے انہیں بارہا رشوت کی پیش کش کرتے رہے۔

5۔ معزز جج نے بتایا کہ کیس کی سماعت کے دوران انہیں عدم تعاون کی صورت سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

6۔ جج صاحب نے کہا کہ انہوں نے لالچ یا دباو کی بجائے صرف شواہد اور حقائق کی بنیاد پر سابق وزیراعظم کو العزیزیہ کیس میں سزا سنائی اور فلیگ شپ کیس میں بری کر دیا۔

7۔ معزز جج نے ویڈیو کو جعلی، جھوٹ پر مبنی اور مفروضہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ اس میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

اگر آپ یہ مان لیں کہ مسلم لیگ ن کی طرف سے کی گئی پریس کانفرنس اور اس میں دکھائی گئی ویڈیو سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے تو خود جج ارشد ملک کی طرف سے جاری پریس ریلیز بعض سنگین نوعیت کے سوالات پیدا کرتی ہے۔

1۔ اگر یہ ویڈیو جعلی ہے تو معزز جج نے اب تک اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہ کی؟ یا اس میں اتنی تاخیر کی وجہ کیا ہے؟

2۔ اگر نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران انہیں رشوت کی پیش کش کی گئی تو معزز جج نے ایسی پیش کشں کرنے والےکے خلاف کیا قانونی کارروآئی کی؟ کیونکہ رشوت کی پیش کش کرنا ازخود ایک جرم ہے۔

3۔ کیا معزز جج نے رشوت کی پیش کش کے بارے میں سپریم کورٹ کے نگران جج یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، جن کے وہ براہ راست ماتحت ہیں، کو اس بارے میں کوئی خبر دی؟

4۔ معزز جج نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران نواز شریف اور ان کے خاندان کے نمائندے انہیں بارہا یہ پیش کش کرتے رہے یعنی معزز جج نے اعتراف کیا کہ وہ اس حساس کیس کی سماعت کے دوران شریف خاندان کے نمائندوں سے مسلسل رابطے میں تھے اور ظاہر ہے اس کیس کے حوالے سے بات بھی کرتے تھے۔ کیا کسی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران اس شخص کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرنا انصاف کے بنیادی اخلاقی تقاضوں سے متصادم نہیں؟

5۔  نواز شریف اور ان کے خاندان کے، جو نمائندے انہیں رشوت کی پیش کش کرتے رہے، ان کے نام کیا ہیں؟ کیا ان کے خلاف جج صاحب نے پولیس یا کسی اور فورم پر کوئی شکایت کی؟

6۔ کیا معزز جج نے نوازشریف اور ان کے خاندان کے نمائندوں کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیوں اور خطرات کے بارے میں عدلیہ یا پولیس میں سے کسی کو مطلع کیا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر ہاں تو اس کا نتیجہ کیا نکلا؟

7۔ کیا معزز جج  بتانا پسند کریں گے کہ وہ ناصر بٹ سے اپنے گھر کیوں ملے؟ اور ان کو اپنے ہی فیصلے کو چیلنج کرنے مین مبینہ معاونت کیوں فراہم کی؟

8۔ لیگی رہنماؤں کا دعوی ہے کہ جاری کی گئی ویڈیو ایڈیٹ نہیں کی گئی۔ معزز جج جس ویڈیو کو جعلی قرار دے رہے ہیں کیا وہ اس ویڈیو کا کسی غیر جانبدارانہ فرم سے فرانزک جائزہ کروانے پر تیار ہیں؟

میں ذاتی طور پر معزز جج جناب ارشد ملک کو بہت پسند کرتا ہوں۔ ان کی عدالت میں جب بھی حاضری ہوتی ہے کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ مجھے ان کا براہ راست موقف سننے کا بھی اشتیاق ہے۔ شاید وہ کبھی آن دی ریکارڈ آنا پسند نہ کریں مگر انہیں چاہیے کہ وہ اس تنازعے میں مندرجہ بالا سوالوں کا جواب ضرور دیں۔ ان سے ملنے والے ضرور ان کی تعریفوں کے پل باندھتے اور انہیں تسلیوں کے محل میں بٹھاتے ہوں گے۔ مگر وہ یقیناﹰ گوشت پوست کے بنے سوچنے والے پڑھے لکھے انسان ہیں۔ وہ یقینی طور پر معاشرتی، خاندانی اور پیشہ وارانہ لحاظ سے ذہنی کوفت کا شکار ہوں گے۔ ان سب مسائل کا حل صرف اور صرف سچ ہے۔ اصل سچ کیا ہے؟ ایک سچا اور کھرا منصف ہی بتا سکتا ہے۔