ابوظہبی: شراب کے لیے پرمٹ سسٹم ختم | حالات حاضرہ | DW | 23.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ابوظہبی: شراب کے لیے پرمٹ سسٹم ختم

متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی کے حکام نے شراب خریدنے اور پینے کے لیے ضروری پرمٹ قانون کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پڑوسی دبئی پہلے ہی ان ضابطوں میں نرمی کا اعلان کرچکا ہے۔

یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ متحدہ عرب امارات فیڈریشن کی سات امارات میں شامل یہ دونوں امارات، کورونا وائرس کی وجہ سے پابندی سے اپنی سیاحتی صنعت کو ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کرنا چاہتی ہیں۔ اس کا ایک اور مقصد اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے لیے ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد اسرائیل سے آنے والے سیاحوں کو تمام سہولیات فراہم کرنا بھی ہے۔

وزارت ثقافت اور سیاحت کی طرف سے منگل کے روز جاری کردہ ایک حکم نامہ، جسے اے ایف پی کے نامہ نگار نے دیکھا ہے،  میں کہا گیا ہے ”ہم شراب کے لیے پرمٹ کی شرط کو ختم کرنے کااعلان کرتے ہیں اور اب مقیم افراد اور سیاح اجازت یافتہ دکانوں سے شراب خرید سکتے ہیں۔"

کیا مسلمان بھی شراب خرید سکیں گے

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شراب خریدنے والے شخص کی عمر کم از کم 21 سال ہونی چاہیے اور اسے پرائیویٹ جگہ یا پھر اس مقصد کے لیے مخصوص جگہ مثلا ً کلب میں پیا جاسکتا ہے۔

تاہم اس حکم نامے میں یہ ابہام موجود ہے کہ آیا مسلمان بھی شراب خرید کرپی سکتے ہیں یا نہیں۔  قبل ازیں مسلمانوں کو شراب خریدنے کے لیے پرمٹ جاری نہیں کیے جاتے تھے۔

اس حکم نامے کے اجراء کے ساتھ ابوظبی میں شراب کے فروخت پر قانونی پابندی ختم ہوگئی ہے۔ گوکہ ابوظہبی میں شراب کی دکانیں کسی کو شراب فروخت کرنے سے پہلے پرمٹ دکھانے کے لیے بالعموم نہیں کہتی تھیں تاہم تکنیکی طور پر وہ ایسا کرنے کی مجاز تھیں۔

دبئی میں پہلے سے ہی اجازت

دبئی میں مقیم افراد یا سیاحوں کو شراب خریدنے سے پہلے پرمٹ دکھا نا پڑتا ہے لیکن شراب خانوں اور ریستورانوں میں اس طرح کی کوئی دستاویز پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

دبئی نے بھی اس سال پرمٹ سسٹم میں نرمی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد لوگوں کو شراب خریدنے کے لیے اپنے آجر سے 'نو آبجیکشن سرٹیفیکیٹ‘ حاصل کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہ گئی ہے۔  شراب خریدنے سے پہلے لوگوں کو صرف ایک فارم پر کرنا پڑتا ہے، اپنا شناختی کارڈ پیش کرنا پڑتا ہے اور پرمٹ حاصل کرنے کے لیے 270 درہم (74 ڈالر) کی رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔  جبکہ سیاح اپنا پاسپورٹ اور ویزا شراب کی دکان پر دکھا کر عارضی لائسنس حاصل کرسکتے ہیں۔

بہر حال دوبئی میں مسلمان اب بھی شراب کے لیے پرمٹ حاصل کرنے کی درخواست نہیں دے سکتے۔

متحد ہ عرب امارات کی سات امارات میں سے چھ میں شراب فروخت کرنے کی اجازت ہے تاہم شارجہ میں اب بھی پابندی ہے۔  وہاں کوئی مئے خانہ یا بار نہیں ہے۔  عوامی مقامات پر شراب پینے اور شراب پی کر گاڑی چلانے پرملک بھر میں سخت پابندی ہے۔

ج ا/  ص ز  (اے ایف پی)

    

ویڈیو دیکھیے 03:41

شراب صحت کے لیے بہتر ہے یا مضر، سچ کیا ہے؟

DW.COM