’آپ کے پیار میں کچھوا نہ مر جائے‘ | سائنس اور ماحول | DW | 23.05.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

’آپ کے پیار میں کچھوا نہ مر جائے‘

کچھوے دیکھنے میں عجیب بھی ہوتے ہیں اور بے حد پیارے بھی۔ مگر انہیں پالنا آسان نہیں۔ آپ کا پیار کسی کچھوے کی جان لے سکتا ہے۔

آج کچھووں کا عالمی دن ہے۔ کچھوے اپنے بیرونی سخت خول، پھر اچانک اپنے ہی خول میں چھپ کر ایک پتھر کا سا روپ دھار لینے کی صلاحیت اور معصومیت کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو بہت بھاتے ہیں۔ کئی افراد ایسے بھی ہیں جو چاہتے ہیں کہ کچھوے کو پالتو جانور کے طور پر گھر پر رکھا جائے۔ مگر کچھوے کو پالنا اتنا آسان نہیں۔ 

پاکستان: کچھوے کا ہزاروں کلوگرام گوشت پکڑا گیا

ماحولیاتی تبدیلی کچھووں کی افزائش کے لیے بڑا خطرہ

شاید آپ کو علم نہ ہو

بہت سے لوگ چھوٹے کچھوے خرید تو لاتے ہیں مگر انہیں علم نہیں ہوتا کہ کچھوا جو دکھائی دیتا ہے، اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ کچھوے میں سالمونیلا نامی بیکٹریا ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیے کہ سن 1975 میں اسی بیکٹیریا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چھوٹے کچھووں کی فروخت پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی۔

 Nepal Schildkröten l Taudha-Feuchtgebiete bei Kathmandu

آج کچھووں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

یہ بھی یاد رکھیے کہ کچھووں کی عمر کئی دہائیوں پر محیط ہو سکتی ہے اور ان کی بعض قسمیں تو انسانوں سے بھی زائد عمر کی حامل ہوتی ہے۔  سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پالتو کچھوے اگر جنگل میں آزاد چھوڑے جائیں، تو یہ کچھووں کی جنگلی اقسام کے لیے نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ گھر میں کچھوے کو بہ طور پالتو جانور رکھنے والوں کی یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کچھووں کے بہت زیادہ جگہ درکار ہوتی ہے۔ ان کے لیے بنایا جانے والا تالاب ان کی جسامت کے اعتبار سے طے ہوتا ہے۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ کچھوے کے بیرونی خول کے فی انچ دس گیلن جگہ درکار ہوتی ہے۔ چھوٹا سا سرخ کانوں والا کچھوا سات سے نو انچ لمبا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے، اسے رکھنے کے لیے آپ کو ستر سے نوے گیلن ٹینک جگہ درکار ہو گی۔

کیا آپ کچھوا پالنے کے لیے تیار ہیں؟

کسی دوسرے پالتو جانور کی طرح کچھوے کو بھی گھر میں رکھنے سے قبل کچھ چیزوں کا اچھی طرح اطمینان کر لینا ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ کچھ خریدنا تو آسان ہے، مگر مجموعی طور پر اس پر آنے والا  ماہانہ اور سالانہ خرچہ کسی دوسرے پالتو جانور کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ پھر کچھوے بہت طویل عمر کے حامل ہوتے ہیں۔ کچھووں کی عام قسمیں بھی قریب پچیس برس عمر کی حامل ہوتی ہیں، اس لیے خود سے یہ بھی پوچھیے کہ کیا آپ اس کی اتنے طویل عرصے تک دیکھ بھال کر بھی پائیں گے؟

مزید برآں کچھووں کو تازہ پانی اور مٹی درکار ہوتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ آپ کو ہر روز تقریبا تیس منٹ ہر حال میں کچھوے پر خرچ کرنا ہوں گے۔ اگر آپ کو گھر سے کہیں دور جانا ہو، تو آپ کو کسی اور شخص کے ذمے یہ کام لگانا ہو گا۔ اس کچھوے کو تازہ پھل، سبزیاں، چوہے اور کیڑے درکار ہوں گے۔

Indien Tempel in Hajo züchtet die Dunkle Weichschildkröte

کچھووں کی دیکھ بھال ایک وقت طلب اور طویل المدتی کام ہے

بہت سے کچھوے دس سے بیس ہفتوں کے لیے ہائبرنیٹ ہوتے ہیں، آپ کو ایسے میں ان کی اس حالت کے لیے محفوظ اور مناسب جگہ کا انتظام کرنا ہوگا۔

کچھوا رہنے دیجیے

گو کی نظری اعتبار سے کچھوے کو پالنا ممکن ہے، مگر عملی طور پر نہ کسی کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے اور نہ کچھوے کی بقا کے لیے درکار مناسب ماحول تخلیق کرنا عام افرادکے بس کا ہے۔

کچھوا انسانوں کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتا اور نہ ہی ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا کوئی رابطہ قائم کرتا ہے بلکہ پالتو کچھوے بھی فقط کھانے کے وقت کے لمحوں میں آپ سے کوئی جوڑ بنائیں گے۔

اس کے علاوہ کچھوں کے لیے ایک مناسب جگہ بنا بھی لی جائے، تو بھی اس جگہ کا درجہ حرارت مستقل برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

یوں سمجھیے کہ کچھوے سے پیار اپنی جگہ مگر اسے پالنا عام افراد کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ویسے کچھووں کا عالمی دن مبارک ہو۔

 

ملتے جلتے مندرجات