آپریشن ضرب عضب کے حتمی مرحلے کا آغاز | حالات حاضرہ | DW | 24.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

آپریشن ضرب عضب کے حتمی مرحلے کا آغاز

پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کی وادی شوال میں آپریشن ضرب عضب کے حتمی مرحلے کے آغاز کا حکم دے دیا ہے۔

پاکستان کی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اس بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، ’’آرمی چیف نے اس آپریشن کی اجازت شوال ویلی کے دورے کے موقع پر دی۔ اس موقع پر آرمی چیف کو فوجی آپریشن کی کامیابیوں پر بریفنگ بھی دی گئی۔‘

شوال ویلی کی گہری اور جنگلات سے بھری کھائیاں اور دتہ خیل کا علاقہ شدت پسندوں کی جانب سے دراندازی کے لیے استعمال ہوتے ہيں۔ اس فوجی آپریشن کے حتمی مرحلے کا مقصد جنگلات سے بھری کھائیوں میں چھپے باقی ماندہ شدت پسندوں کو ختم کرنا ہے اس کے ساتھ ساتھ سرحد پار افغانستان میں سرگرم عسکریت پسندوں کے سہولت کاروں کے ساتھ رابطے کو بھی توڑنا ہے۔

اس موقع پر آرمی چیف نے فوجی آپریشن کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا، ’’ پاکستانی فوج کے جوانوں کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور ہم دہشت گردی سے پاک پاکستان کا مقصد حاصل کر کے رہيں گے۔‘‘

واضح رہے کہ کراچی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر شدت پسندوں کی جانب سے حملے اور حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے مابین مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان نے 15 جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ کا آغاز کیا تھا۔ دفاعی ماہرین کی رائے میں اس فوجی آپریشن کے بعد پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں 70 فیصد کمی آئی ہے۔