آن لائن مہم: کشمیر پر نامور بھارتی شخصیات ’خاموش‘ کیوں؟ | معاشرہ | DW | 26.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آن لائن مہم: کشمیر پر نامور بھارتی شخصیات ’خاموش‘ کیوں؟

فیس بک کے ’نیور فارگیٹ پاکستان‘ نامی پیج سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی سکیورٹی افواج کی جانب سے پیلٹ گن کے استعمال اور اس سے متاثرہ افراد کی کہانیوں کو ایک آن لائن مہم کے ذریعے بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Screenshot Facebook Kampagne Never Forget Pakistan

اس مہم کا مقصد بھارت کو گالیاں دینا اور پاکستان کو بہت اچھا کہنا ہر گز نہیں ہے، جبران ناصر

اس مہم میں فیس بک کے بانی مارک زکربرگ، بھارتی اداکاروں امیتابھ بچن، سیف علی خان اور ایشوریہ رائے، بھارت کی سیاسی جماعت کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی، کرکٹر ویرات کوہلی اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی تصاویر کو فوٹو شاپ کر کے انہیں پیلٹ گنوں سے زخمی ہونے کی حالت میں دکھایا گیا ہے۔

اس مہم کے بانی جبران ناصر نے ڈی ڈبلیو سے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس مہم کا مقصد کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرنا اور اُنہیں یہ بتانا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مہم کا مقصد بھارت کو گالیاں دینا اور پاکستان کو بہت اچھا کہنا ہر گز نہیں ہے بلکہ صرف دنیا کو یہ بتانا ہے کہ کشمیر میں معصوم لوگوں پر کیا کچھ بیتا ہے۔ اس مہم میں تصاویر تو محض فوٹو شاپ ہیں لیکن ان میں بیان کی جانے والی تمام کہانیاں سچے واقعات پر مبنی ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے نوجوان رہنما برہان وانی کی بھارتی سکیورٹی افواج کی جانب سے ہلاکت کے بعد کشمیری عوام ریلیوں اور احتجاجی مظاہروں میں باہر نکل آئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک کشمیر میں پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے 70 سے زائد افراد اپنی بینائی کھو چکے ہیں اور پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس مہم پر تنقید

جہاں ایک طرف ان تصاویر کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے اور اس مہم کے حق میں بیانات دیے جا رہے ہیں، وہیں بہت سے افراد اسے تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں۔ اس تنقید کے بارے میں جبران ناصر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا:’’سن 2014 میں پشاور کے اے پی ایس اسکول میں حملے کے بعد ہم نے ’نیور فارگیٹ پاکستان‘ سوسائٹی تشکیل دی تھی۔ ہم پاکستان میں شیعہ مسلک، احمدیوں اور اقلیتوں کے حق میں بات کرتے ہیں تو ہمیں پاکستان میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب ہم پر یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، اس لیے ہم نے کشمیر کا معاملہ اٹھایا جو کہ بالکل غلط ہے، ہماری اس مہم پر تنقید کرنا سچائی سے منہ موڑنا ہے۔‘‘

جبران ناصر کہتے ہیں کہ ’نیور فارگیٹ پاکستان‘ نے عدالت میں کیس کیا ہوا ہے، جس میں پاکستان کی وزارت داخلہ فریق ہے اور اس سے پوچھا گیا ہے کہ لال مسجد کے سربراہ مولانا عبدالعزیز کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جا رہی، جن کے ادارے نے ایک ویڈیو میں دہشت گرد تنظیم داعش کی بیعت کی ہوئی ہے۔

ہندوستان میں اس مہم کے حامی

سوشل میڈیا پر اکثر افراد کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے موقف کو لے کر اس مہم پر بحث کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگ پاکستان کے خلاف بھی انگلیاں اٹھا رہے ہیں کہ یہاں بھی اقلیتوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور یہ کہ کشمیر میں جہادی سرگرمیوں میں پاکستانی ریاست ملوث رہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود ہندوستان میں بھی ایسے افراد موجود ہیں، جو جبران ناصر کی مہم کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جبران ناصر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’بھارت سے صرف مسلمان نہیں بلکہ ہندو ایکٹیوسٹ بھی اس مہم کی تعریف کر رہے ہیں۔ بھارت کے بڑے اخبارات جیسے کہ دی ہندوستان ٹائمز، انڈیا ٹائمز، فرسٹ پوسٹ اور بز فیڈ انڈیا نے اس مہم کے بارے میں مثبت رپورٹنگ کی ہے۔ جبران کہتے ہیں کہ بھارت کے بڑے اخبارات میں سے صرف ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اُن کی آن لائن مہم کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

بڑے ستاروں کی تصاویر ہی آخر کیوں ؟

اس مہم میں بھارت کی بڑی اور انتہائی مقبول شخصیات کی تصاویر کو کیوں دکھایا گیا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جبران ناصر کہتے ہیں کہ ان بڑے ستاروں کی تصاویر کو اس لیے استعمال کیا گیا ہےکیوں کہ بھارت میں بہت سے لوگ ان بڑے ناموں کے مداح ہیں۔ ایک چار سالہ بچی کو زخمی حالت میں دیکھ کر شاید لوگ اتنے پریشان نہ ہوں لیکن وہ شاہ رخ خان کو زخمی دیکھ کر ضرور پریشان ہوں گے۔ جبران کہتے ہیں:’’دنیا بھر میں اشتہاروں اور پولیو اور بڑھتی آبادی کو کم کرنے، کھیل اور مختلف بڑی کیمپینز میں نامور شخصیات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم نے اس لیے ان کے پوسٹرز بنائے ہیں تاکہ لوگوں کو اس معاملے کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔‘‘

DW.COM