آموں پر پابندی سے بھارتی نژاد برطانوی شہری مایوس | معاشرہ | DW | 18.05.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

آموں پر پابندی سے بھارتی نژاد برطانوی شہری مایوس

یورپی یونین کی جانب سے بھارتی آموں کی درآمد پر پابندی سے بھارتی نژاد برطانوی شہری مایوس ہیں۔ وہ اس پابندی کو غیرمنصفانہ قرار دے رہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے انہیں گرمیوں کے ’میٹھے مزے‘ سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین نے الفانسو اور بھارتی آموں کی دیگر قسموں کی درآمد پر یکم مئی سے پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ برس بھارت سے آنے والے آموں کی کھیپوں کے ساتھ پھلوں پر بیٹھنے والی مکھیاں بھی یورپی ملکوں میں آ پہنچی تھیں جو مقامی فصلوں کے لیے نقصان دِہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانیہ میں بھارتی نژاد شہری اس پابندی کے باعث بالخصوص رنجیدہ ہیں جبکہ ان آموں کی درآمد سے منسلک کاروباری حلقوں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک پچپن سالہ احمد خان ہیں جو لندن میں جنوبی ایشیا کی اکثریتی آبادی کے علاقے ٹُوٹنگ میں ایک اسٹال لگاتے ہیں۔

احمد خان کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے اس اقدام سے انہیں بہت نقصان ہو گا۔ ان کا کہنا ہے: ’’یہ غیرمنصفانہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ رواں برس ہمیں نصف آم نہیں ملیں گے، یعنی کاروبار بھی آدھا ہو جائے گا۔‘‘

Indien Mango Markt Frucht Obst Flash-Galerie

برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کیتھ واز کے مطابق بھارتی آم نہ پہنچنے سے آئندہ برس تک برطانوی کاروباری حلقوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا

انہوں نے مزید کہا: ''سیاستدانوں (بھارتی) کے پاس اس مسئلے میں مداخلت کرنے کا وقت نہیں ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اب وہ پاکستان کو آم برآمد کر رہے ہیں کیونکہ آموں کی بہتات ہے اور وہ بہت سستے بھی ہیں۔‘‘

ٹُوٹنگ ہی میں ایک دکاندار روہیت شاہ کا کہنا ہے کہ ذائقے کے اعتبار سے آموں میں الفانسو کا کوئی مقابل نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی راج کے وقت بھی آموں کی اس قسم کو بہترین سمجھا جاتا تھا۔

گزشتہ ہفتے رکن پارلیمنٹ کیتھ واز نے ہاؤس آف کامنز میں اس پابندی کا مدعا اٹھایا تھا۔ اس موقع پر انہوں نے مایوس شہریوں کی جانب سے دباؤ کا حوالہ دیا تھا۔

کیتھ واز کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس برطانیہ میں بارہ ملین آم کھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ برس دسمبر تک جاری رہنے والی اس پابندی کے نتیجے میں برطانیہ میں کاروباری حلقوں کو دس ملین پاؤنڈ سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

یورپی یونین میں بھارتی نژاد شہریوں کی سب سے بڑی آبادی برطانیہ میں ہے۔ اس کی ساٹھ ملین آبادی میں سے تقریباﹰ 14لاکھ بھارتی نژاد ہیں۔

DW.COM