آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل جوکووچ کے نام | کھیل | DW | 27.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل جوکووچ کے نام

سرب کھلاڑی نوواک جوکووچ نے ہسپانوی اسٹار رفائل نادال کو سیدھے سیٹوں سے مات دے کر آسٹریلین اوپن کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا ہے۔ جوکووچ نے ساتویں مرتبہ آسٹریلین اوپن کا فائنل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے میڈیا رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ میلبورن میں کھیلے گئے آسٹریلین اوپن کے مردوں کے سنگلز مقابلوں کے فائنل میں اکتیس سالہ سرب کھلاڑی نوواک جوکووچ نے ہسپانوی کھلاڑی رافائل نادال کو چھ تین، چھ دو اور چھ تین سے ہرا دیا۔ اگرچہ اس میچ میں عالمی نمبر ایک جوکووچ کو فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا لیکن یہ کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ نادال اس میچ میں ایک سیٹ بھی اپنے نام نہ کر سکیں گے۔

یہ میچ صرف دو گھنٹے اور چار منٹ تک ہی جاری رہا۔ ناقدین کے مطابق جوکووچ نے میچ کے آغاز سے ہی عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور نادال کو کھل کر کھیلنے کا موقع ہی فراہم نہ کیا۔ کسی بھی گرینڈ سلام فائنل میں نادال کے خلاف جوکووچ کی یہ سب سے بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔

میچ کے بعد جوکووچ نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ان حالات میں۔۔۔ یہ یقینی طور پر ایک شاندار میچ تھا۔‘‘ رافائل نادال نے اپنی شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جوکووچ نے انتہائی عمدہ کھیل پیش کیا لیکن اس میچ سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔ سترہ مرتبہ گرینڈ سلام ٹائٹل اپنے نام کرنے والے نادال کے مطابق، ’’ایمانداری کی بات ہے کہ آج میں کچھ خاص نہ کر سکا۔‘‘

ہفتہ چھبیس جنوری کو خواتین سنگلز کے فائنل میچ میں جاپانی ٹینس کھلاڑی ناؤمی اوساکا نے چیک ریپبلک کی پیٹرا کوویٹیوا کو سات چھ، پانچ سات اور چھ چار سے ہرا کر یہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔ مجموعی طور پر اوساکا کا یہ دوسرا گرینڈ سلام ٹائٹل تھا۔ قبل ازیں وہ یو ایس اوپن بھی جیتا تھا۔

آسٹریلین اوپن میں شاندار کامیابی کے نتیجے میں اوساکا پیر اٹھائیس جنوری سے جاری ہونے والی تازہ رینکنگ میں عالمی نمبر ایک خاتون کھلاڑی کا درجہ حاصل کر لیں گی۔ یہ امر اہم ہے کہ اس سے قبل کوئی بھی ایشیائی مرد یا خاتون ٹینس کھلاڑی عالمی رینکنگ پر پہلے نمبر بھی کبھی بھی براجمان نہیں ہو سکا تھا۔

ع ب / ع ح / خبر رساں ادارے

DW.COM