آسٹریا کا سلووینیہ کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا ارادہ | مہاجرین کا بحران | DW | 28.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

آسٹریا کا سلووینیہ کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا ارادہ

آسٹریا کی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے ان کا ملک سلووینیہ کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے بحران زدہ ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں افراد ہجرت کر کے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔

آسٹریا اور سلووینیہ یورپ کے شینگن زون کا حصہ ہیں، جہاں یورپ میں سکونت پذیر افراد بغیر پاسپورٹ کے سفر کر سکتے ہیں۔ یہ ممالک مشرق وسطیٰ، بالخصوص شام اور عراق کے ان ہزاروں مہاجرین کے لیے عارضی پڑاؤ بھی ہیں جو کہ مغربی اور شمالی یورپی ممالک پہنچنے کے خواہش مند ہیں۔

آسٹریا کی وزیر داخلہ یوہانا میکل لائٹنر کا بدھ کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا: ’’خار دار تاریں لگانے کا مقصد چیزوں کو ترتیب میں رکھنا اور ملک میں مہاجرین کی آمد کو قابو میں رکھنا ہے۔ اس کا مقصد ہرگز سرحد کو بند کر دینا نہیں ہے۔‘‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مہاجرین کا مسئلہ بگڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ موسم سرما کی آمد ہے اور لوگوں کو شدید سردی میں ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

DW.COM

''ہمیں معلوم ہے کہ حالیہ چند دنوں اور ہفتوں میں مہاجرین کا رویہ جذباتی اور جارحانہ ہو گیا ہے۔ اس صورت حال میں کہ جب لوگوں کی بھیڑ آگے اور پیچھے سے ایک دوسرے کو دھکیلتی ہے تو بچے اور خواتین پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ہمیں اقدامات کرنا ہوں گے۔‘‘

'یورپی قلعہ‘

اس سے قبل منگل کے روز وزیر داخلہ نے عندیہ دیا تھا کہ آسٹریا کی حکومت اپنی سرحدوں پر باڑ لگانے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے آسٹریا کی قدامت پسند حکومت اور وزیر داخلہ کو اس بیان پر حزب اختلاف کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ یورپی یونین کو ’یورپی قلعے‘ میں تبدیل کرنا چاہیے۔

تاہم سوشل ڈیموکریٹس، جو کہ قومی سطح پر حکمران جماعت کے اتحادی ہیں، میکل لائٹنر کے بدھ کے دن کیے گئے اعلان کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیر دفاع گیرالڈ کلُوگ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ باڑ لگانے سے مہاجرین کو ’قابو میں رکھا جا سکتا ہے‘ اور ان کی دیکھ بھال بھی قرینے سے کی جا سکتی ہے۔

نئے راستوں کی تلاش

مشرق وسطیٰ کے خانہ جنگی کا شکار ممالک سے ہزاروں کی تعداد میں افراد بذریعہ سمندر یورپی یونین کا رخ کر رہے ہیں جس کے باعث یورپ میں ایک بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

گزشتہ ماہ تک مہاجرین ترکی سے یونان اور پھر وہاں سے مقدونیہ اور سربیا سے گزرتے ہوئے یورپی ملک ہنگری میں داخل ہو رہے تھے۔ ہنگری اور سربیا کے درمیان سرحد کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا تھا، جس کے بعد پناہ گزین کروشیا کے راستے ہنگری پہنچنا شروع ہو گئے۔ ہنگری کی حکومت نے کروشیا کے ساتھ اپنی سرحد کو بھی بند کر دیا تو مہاجرین نے نیا راستہ اختیار کر لیا۔ اب مہاجرین کروشیا سے سلووینیہ اور پھر وہاں سے آسٹریا پہنچ رہے ہیں۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ سردی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہاجرین کی آمد کا سلسلہ بھی کم ہو جائے گا تاہم زمینی صورت حال توقعات کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ زیادہ تر مہاجرین کی منزل جرمنی، سویڈن اور دیگر اسکنڈے نیوین ممالک ہیں۔ تارکین وطن کو اندیشہ ہے کہ ان کی منزل تک پہنچنے کے لیے یہ نیا راستہ بھی عنقریب بند ہو جائے گا۔ اسی لیے مہاجرین جلد از جلد کروشیا کے راستے سلووینیہ پہنچ رہے ہیں۔