آزادیٴ اظہارِ رائے کا ایوارڈ، وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے نام | معاشرہ | DW | 03.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آزادیٴ اظہارِ رائے کا ایوارڈ، وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے نام

جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو (ڈوئچے ویلے) کی طرف سے رواں برس آزادیٴ اظہارِ رائے کا ایوارڈ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی تنظیم ڈبلیو ایچ سی اے کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق یہ ایوارڈ آئندہ مہینے یعنی جون کی انیس تاریخ کو جرمنی کے شہر بون میں منعقد ہونے والے گلوبل میڈیا فورم کے موقع پر اس تنظیم کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ ایوارڈ ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لمبورگ ڈبلیو ایچ سی اے کے صدر جیف میسن کے حوالے کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن (WHCA) کے صحافیوں کو یہ ایوارڈ امریکی قیادت کو جوابدہ بنانے کے سلسلے میں اُن کی خدمات کے بدلے میں دیا جا رہا ہے۔

موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان صحافیوں کو متعدد مرتبہ ناقابل اعتبار قرار دیا جا چکا ہے اور متعدد مرتبہ ان کی ساکھ پر سوالات اٹھائے جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود یہ صحافی نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کی رپورٹنگ کے حوالے سے صحافت کے نئے معیارات قائم کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا، ’’ہمیں امریکا کی جمہوریت پر مکمل اعتبار ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہمارا مضبوط میڈیا پر انحصار ضروری ہے۔ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن اقتدار میں آنے والوں پر کنٹرول کی ایک ضمانت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جعلی خبروں کے الزامات اور امریکی صدر کی طرف سے سوشل میڈیا پر الزامات نے امریکی میڈیا کے سامنے نئے چیلنج لا کھڑے کیے ہیں۔‘‘

’اظہار رائے کی آزادی کا خاتمہ، جمہوریت کا خاتمہ‘، لمبورگ

اس اعلان کے بعد ڈبلیو ایچ سی اے کے صدر جیف میسن کا کہنا تھا، ’’وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن آزادیٴ صحافت کے اس ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے پر ڈوئچے ویلے کی دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہے۔ ہماری تنظیم ان صحافیوں کے لیے لڑ رہی ہے، جو ہر روز ان رہنماؤں کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہیں، جن کی پالیسیاں پوری دنیا کو متاثر کرتی ہیں۔‘‘

ابھی دو سال پہلے شروع کیا جانے والا یہ ایوارڈ پہلی مرتبہ سن دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب میں قید بلاگر رائف بداوی کو دیا گیا تھا۔ گزشتہ برس یہ ایوارڈ ترک روزنامے ’حریت‘ کے ایڈیٹر ان چیف سیدات ایرگین کے حصے میں آیا تھا۔ یہ اخبار ترک صدر ایردوآن کی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت کرنے والا آخری آزاد جریدہ تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار