آرامکو پر حملے میں ایرانی اسلحے کے شواہد ملے ہیں، سعودی اتحاد | حالات حاضرہ | DW | 16.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

آرامکو پر حملے میں ایرانی اسلحے کے شواہد ملے ہیں، سعودی اتحاد

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے میں ایرانی اسلحے کے استعمال کے شواہد ملنے کا بتایا گیا ہے۔ یہ حملہ گزشتہ ویک اینڈ پر کیا گیا تھا۔

 سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ایک بیان میں واضح کیا گیا کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے کی ابتدائی تفتیش کے مطابق  اس میں ایرانی ساختہ اسلحے کے استعمال ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ یہ بات عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے پیر سولہ ستمبر کو دارالحکومت ریاض میں کی جانے والی ایک پریس کانفرنس میں بیان کی ہے۔

کرنل المالکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تفتیشی عمل جاری ہے اور اس بابت مزید شواہد سامنے جلد لائیں جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ہتھیار یمن سے روانہ نہیں کیے گئے تھے۔ عسکری اتحاد کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ آرامکو کی تنصیبات پر مبینہ ڈرون حملوں کے لیے یمن سے باہر کس دوسرے مقام کو منتخب کیا گیا تھا اور اس کی تفصیلات کسی اگلی پریس کانفرنس میں بتائی جائیں گی۔

 سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا نے قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حوثی ملیشیا کی جانب سے پیر سترہ ستمبر کو سعودی تیل کی تنصیبات پر مزید حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔

Saudi-Arabien Drohnenangriffe

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے نواح میں واقع تیل کی ریفائنری

حوثی ملیشیا کے ترجمان بریگیڈئر یحییٰ ساری کا کہنا ہے کہ وہ سعودی حکومت پر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب کے سبھی مقامات اُن کی دسترس میں ہیں اور کسی بھی مقام کو وہ منتخب کر کے اُس پر حملہ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔

 سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی منڈیوں میں خام تیل کے فی بیرل کی قیمت میں اضافہ پیدا ہوا ہے۔ اس حملے سے تیل کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کی اس صورت حال کو ماہرین نے 'کھلبلی‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف کسی ممکنہ اقدام کا اشارہ دے دیا ہے۔ اس تناظر میں دوسری عالمی طاقتوں نے فریقین کو صبر و تحمل اور احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس خطے میں کسی بھی فوجی ایکشن کے انتہائی منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ع ح، ع ا ⁄  روئٹرز، اے ایف پی

DW.COM