آذربائیجان مذہبی ہم آہنگی کی جانب کیسے بڑھا؟ | معاشرہ | DW | 13.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

آذربائیجان مذہبی ہم آہنگی کی جانب کیسے بڑھا؟

آذربائیجان میں سنی اور شیعہ مسالک ہی سے تعلق رکھنے والے افراد نہیں بلکہ مختلف مذہبی اقلیتیں بھی بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندگی گزار رہی ہیں۔

 آذربائیجان کی مذہبی ربط سے متعلق ریاستی کمیٹی کے بین الاقوامی امور کے شعبے کے سربراہ رفیع قربانوف نے ڈی ڈبلیو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ آذربائیجان میں سنی اور شیعہ فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان صدیاں گزر جانے کے باوجود کبھی کشیدگی یا تناؤ پیدا نہیں ہوا

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ برداشت اور رواداری کی اس روایت کو زندہ رکھا جائے۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور دنیا بھر میں فرقہ واریت کی بنیاد پر کشیدگی اور تنازعات خوفناک حقیقت ہیں۔

مذہب جرمنی میں بھی ایک چونکا دینے والا لفظ

مسیحیت کی تبلیغ، فن لینڈ کے چار باشندے گرفتار

قربانوف کا کہنا تھا کہ  اس سلسلے میں کیا جانے والا اہم اقدام یہ ہے کہ  ثقافت اور نظام کا تحفظ معاشرہ خود یقینی بنائے کیوں کہ فقط حکومت اس کے لیے کافی نہیں۔ ’’اگر آپ کو اس طرح کی مدد معاشرے میں نچلے طبقے تک سے میسر ہو اور سب مل کر کام کریں، تو اس میں آسانی سے پیش رفت ہو سکتی ہے۔ ’’برداشت کی اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک طرف تو ہم نے قانونی ضابطے بنائے ہیں مگر ساتھ ہی تمام مذاہب اور تمام نسلوں کو تسلیم بھی کیا ہے۔ قانون کے ساتھ کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھنے والا شخص برابر ہو گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آذربائیجان کا قانون کسی بھی خاص مکتبہ فکر یا مذہبی وابستگی کے لیے کوئی رعایت نہیں کرتا، یوں ہم آذربائیجان میں تنوع کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

سرکاری عہدیدار قربانوف کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک اور اہم اقدام یہ کیا گیا ہے کہ اداروں کی سطح پر ان قوانین کے عملی اطلاق اور ان کو پالیسیوں کا ماخذ بنایا گیا ہے، تاکہ اداروں کی مدد سے حکومت اپنے اقدامات کرے۔ ’’کیوں کہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ مل کر رہیں اور ہم اس تنوع اور ہم آہنگی کو وسیع تر پیمانے پر محفوظ رکھا جائے۔‘‘

قربانوف کا مزید کہنا تھا، ’’میں آپ کو ایک برداشت کی ایک مثال دیتا ہوں ہمارے ہاں شیعہ اور سنی ایک ہی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے دعا مانگتے ہیں۔ ہمارا ایک اتحاد ہماری قوت ہے نامی پروجیکٹ ہے، جس میں شیعہ اور سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، جہاں وہ اپنے اپنے نکتہ ہائے نگاہ کے ساتھ مکالمت کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں رمضان کی میز نامی ایک منصوبہ بھی ہے، جس کے تحت رمضان میں شیعہ اور سنی مسلمان غیرمسلم شہریوں کے ساتھ ایک میز پر بیٹھتے ہیں اور اس روز ملک بھر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔

آیو پُروانِگسسیہ، ع ت، ک م 

DW.COM