آدم و حوا بمقابلہ لُوسی، افریقہ میں نظریہٴ ارتقا | فن و ثقافت | DW | 01.03.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

آدم و حوا بمقابلہ لُوسی، افریقہ میں نظریہٴ ارتقا

کیا انسان کی تخلیق خدا نے کی ہے یا انسان بتدریج بندر سے ارتقائی منزل طے کرتے ہوئے موجودہ شکل و صورت کا حامل ہوا ہے۔ براعظم افریقہ میں عام لوگ اس نظریہٴ ارتقا کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

ڈوئچے ویلے کی نئی دستاویزی سیریز ’افریقہ روٹس‘ کے نشر کیے جانے کے بعد اس پر افریقی ممالک کے لوگوں کی جانب سے متضاد آراء موصول ہوئی ہیں۔ ڈی ڈبلیو کے فرانسیسی پیج پر کیمرون کے ایک شہری نے لکھا کہ ڈی ڈبلیو والے ایک بندر کو گھر میں لا کر رکھیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح بتدریج انسان کی صورت اختیار کرتا ہے۔

’ڈارون کی تھیوری غلط ہے‘، بھارتی نائب وزیر تعلیم

ادویات بناتے ہوئے ارتقاء بھی تو نظر میں رکھا جائے

ڈارون کے جمع کردہ نایاب فوسلز اچانک دریافت

مشہورحیاتیات دان چارلس ڈارون کی200ویں سالگرہ

اس دستاویزی سیریز کا پہلا پروگرام ’لُوسی‘ کے حوالے سے تھا۔ امریکی ریسرچرز کو سن 1974 میں ایتھوپیا میں ایک خاتون کا ڈھانچہ ملا تھا۔ امریکی محققین نے اس عورت کے ڈھانچے کو ’لُوسی‘ کا نام دیا اور اُس پر مزید ریسرچ سے معلوم ہوا کہ یہ نسائی ڈھانچہ بتیس لاکھ برس قدیمی ہے۔

ڈی ڈبلیو کے سواحلی زبان کی سروس کے فیس بک پیج پر شیہا ابراہیم نے لکھا کہ خدا نے پہلے انسان کو مکمل صورت کے ساتھ پیدا کیا تھا۔ شیہا نے لوسی کے ڈھانچے کو بندر کا قرار دیتے ہوئے اُس کو انسان کی ابتدائی صورت تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیا۔

Tochter Lucy Fossil eines 3,3 Millionen jahre alten Kindes entdeckt

ایک امریکی محقق لوسی نامی قدیمی ڈھانچے کی تفصیلات بیان کر رہا ہے

کیتھولک پادری فریڈرش اسٹینگر برسوں براعظم افریقہ میں مقیم ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ نیروبی کے ایک کالج میں ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے بیالوجی کے ٹیچر نے انہیں بتایا کہ وہ چرچ کے اُس بیان سے اختلاف رکھتا ہے کہ دنیا چار ہزار برس قبل تخلیق کی گئی تھی۔ ٹیچر نے واضح کیا کہ وہ بطور سائنسدان اس مسیحی مذہبی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا اور اس باعث دین اور سائنس کو ایک ساتھ جوڑا نہیں جا سکتا۔ کیتھولک چرچ نے سن 1950 میں نظریہ ارتقا کے بارے میں اپنے مذہبی تصور میں لچک پیدا کرنا شروع کی تھی۔

Äthiopien - Fossil Lucy

زمانہٴ قدیم کی ایک عورت کے ڈھانے کو بیتیس لاکھ سالہ پرانا قرار دیا گیا ہے

مذہب اور نظریہ ارتقا کے حوالے سے کیپ ٹاؤن یونیورسٹی کے اسلامک اسٹیڈیز کے پروفیسر عبدالقادر طیب کا کہنا ہے کہ مذہبی عقائد اور ارتقا کے نظریات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ طیب کے مطابق مسلمان بھی یہودیوں اور مسیحیوں کی طرح یقین رکھتے ہیں کہ کائنات کو خدا نے تخلیق کیا ہے اور اس خلِقت کی معراج انسان ہے، جو ارتقائی اصولوں کے قریب ہے۔

پروفیسر طیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ افریقی لوگ اس نظریے کو اس لیے بھی ماننے کے لیے تیار نہیں کیونکہ یہ اُن کی معاشرتی اقدار میں پہلے سے موجود نہیں اور اُن کا خیال ہے کہ یہ کسی اور علاقے سے لا کر اُن پر ٹھونسا گیا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کئی اسلامی علماء واضح طور پر نظریہ ارتقا کی نفی کر چکے ہیں۔

براعظم افریقہ کے مسلمانوں میں بھی تخلیق اور نظریہٴ ارتقا ایک نزاعی معاملہ ہے۔ اسلامی مطالعہ کے پروفیسر عبدالقادر طیب کا کہنا ہے کہ قرآن میں نظریہ تخلیق مختلف مقامات پر مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے اور یہ ارتقا کے نظریات سے مختلف ہے اور یہ بہت مشکل ہے کہ کسی ایک کو قبول کیا جائے اور دوسرے کو مسترد کر دیا جائے۔

یہ امر اہم ہے کہ کئی افریقی ملکوں میں ابھی تک نصاب میں نظریہٴ ارتقا شامل نہیں ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ان ممالک میں تعلیم کی مد میں رکھا گیا بجٹ ہے اور اساتذہ کو ایسے مضامین کی تربیت فراہم کرنا ممکن نہیں۔ براعظم افریقہ کے تعلیمی نصاب و نظام کے حوالے سے مرتب کی جانے والی حالیہ ریسرچ میں کئی ملکوں میں یہ شعبہ انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔