آئی ایس بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے، یورو پول | معاشرہ | DW | 25.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

آئی ایس بڑے حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے، یورو پول

یورپی یونین کی پولیس ایجنسی یورو پول کے سربراہ روب وین رائٹ نے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کو ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے بقول یہ تنظیم عالمی سطح پر دہشت گردانہ حملوں کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یورپی یونین کی پولیس ایجنسی یورو پول کے سربراہ روب وین رائٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نے کہا کہ اسلامک اسٹیٹ نے حملے کرنے اور لڑنے کا ایک نیا انداز اختیار کیا ہے۔ ان کے بقول،’’نام نہاد اسلامک اسٹیٹ کا ارادہ بھی ہے اور ان کا پاس یورپ کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی ہے۔‘‘ روب وین رائٹ کے مطابق یقیناً سلامتی کے تمام ادارے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

اس پریس کانفرنس کا مقصد اسلامک اسٹیٹ کے بارے میں یورو پول کی نئی رپورٹ میں شامل تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کرنا تھا۔ اس رپورٹ میں توجہ دی گئی تھی کہ یہ جہادی گروپ کس طرح سے کارروائیاں کرتا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ نے گزشتہ برس تیرہ نومبر کو پیرس میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس واقعے میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Niederlande Rob Wainwright Europol Direktor

سلامتی کے تمام ادارے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں، وین رائٹ

اس گروپ کی جانب سے اتوار کے روز ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں نو دہشت گردوں کو دکھایا گیا ہے، جو آئی ایس کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد کے رکن ممالک بشمول برطانیہ پر حملے کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ امریکی سربراہی میں نومبر 2014ء میں شام و عراق میں آئی ایس کو نشانہ بنانے کے لیے ایک اتحاد قائم ہوا تھا۔

یورو پول کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے’’ آئی ایس بھارتی شہر ممبئی کے طرز پر یورپی شہروں میں حملے کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ خاص طور پر فرانس میں۔‘‘ اس رپورٹ کے مطابق اس دوران آسان اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا کیونکہ اس طرح دہشت گردی کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔’’ اکتوبر 2015ء میں مصر میں روسی فضائی طیارے کی تباہی اور نومبر میں پیرس حملے آئی ایس کی بدلتی ہوئی پالیسی واضح کر رہے ہیں۔‘‘

ملتے جلتے مندرجات