آئندہ حکومت اور سرائیکی صوبے کا مطالبہ | الیکشن اسپیشل 2018 | DW | 30.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

الیکشن اسپیشل 2018

آئندہ حکومت اور سرائیکی صوبے کا مطالبہ

جنوبی پنجاب کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ماہر سماجیات امجد نذیر کا کہنا ہے کہ تبدیلی کے کھوکھلے نعروں سے قطع نظر اس مرتبہ بھی جنوبی پنجاب کے وڈیروں اور سرداروں کی گرفت کمزور نہیں ہوئی۔

پاکستان میں ایک زبان ایسی بھی ہے، جسے انتہائی مدھر اور میٹھی ہونے کے باوجود اپنی سیاسی شناخت منوانے میں ستر سال لگے۔ یہ سرائیکی زبان ہے  جس کے بولنے والوں کی اکثریت جنوبی اور جنوب مغربی پنجاب میں رہتی ہے، جو کم و بیش ڈھائی کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔

پنجاب کے انیس اضلاع میں آباد بیشتر لوگ سرائیکی زبان اور ثقافت سے ہی پہچانے جاتے ہیں۔ ان اضلاع پر مشتمل ایک ’سرائیکی صوبہ‘ بنانے کا مطالبہ بھی اسی قدر پرانا ہے۔ اس صوبے کی تخلیق کا آخری وعدہ پاکستان کے نئے متوقع وزیراعظم عمران خان نے ’جنوبی صوبہ محاز‘ کو اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں ضم کرتے ہوئے مئی 2018 میں کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے 100 دن کے اندر اندر جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا ابتدائی کام کر لیں گے۔ 

ویڈیو دیکھیے 01:08

جنوبی پنجاب کے ووٹرز کیا چاہتے ہیں؟

پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیاں مجوزہ سرائیکی صوبے کے حوالے سے اپنا (اختلافی یا اتفاقی) مؤقف رکھتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی سرائیکی شناخت اور ’سرائیکی صوبے‘ کے نام کے ساتھ ایک نئے صوبے کے قیام کے فیصلے سے متفق رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ ’جنوبی پنجاب صوبہ‘ کا نام بھی تجویز کرتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب میں ایک نئی لسانی و انتظامی شناخت سے خائف رہی ہے اور اسی لیے اس نے بہاولپور صوبے کی تحریک کا نعرہ بھی بلند کیا۔ تحریک انصاف دو دہائیوں کے تامل کے بعد محدود مگر انتظامی سطح پر مذکورہ صوبے کی تخلیق پر تیار ہوئی ہے۔

مرکز پسند اسٹیبلشمنٹ چونکہ مجوزہ صوبے کو ’سرائیکی’ نام دینے پر ہرگز رضامند نہیں، اس لیے پیپلز پارٹی نے مفاہمتی انداز اختیار کرتے ہوئے صوبہ جنوبی پنجاب‘ کے نام سے سن دو ہزار بارہ میں  سینیٹ میں ایک بِل منظور کروا کے اس مطالبے کو ٹھوس قانونی جواز فراہم کر دیا۔

مسلم لیگ (ن) نے مئی سن 2013  پنجاب اسمبلی میں ’بہاولپور جنوبی پنجاب‘ کے نام سے صوبہ بنانے کی ایک قرارداد منظور کروائی۔ دوسری طرف سن دو ہزار تیرہ میں مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ دور حکومت کے دوران سرکاری دفاتر میں بالائی پنجاب کے افسران کا ٹرانسفر کرنا اور سرائیکی شناخت کو کمزور کرنا اور ’ایک پنجاب‘ کے مؤقف کو مضبوط کرنا جاری رکھا۔

پیپلز پارٹی نے جب آئینی ترمیمی بل جو کہ نئے صوبے کی تخلیق کے لیے ضروری ہے، پنجاب اسمبلی میں پیش کیا تو مسلم  لیگ (ن) نے اسے رد کر دیا۔ یہاں یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ آئین پاکستان کی رو سے قومی اسمبلی کسی بھی نئے صوبے کے بِل کو اُس وقت تک سینیٹ میں منظوری اور پھر صدرِ پاکستان کی حتمی منظوری کے لیے نہیں بھیج سکتی جب تک متعلقہ صوبہ، جس میں سے نیا صوبہ بنانا ہو، دو تہائی اکثریت سے اِس کی منظوری نہ دے یا قومی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے متعلقہ آرٹیکل 239 میں ترمیم کرکے یہ اختیار اپنے دائرہ کار میں شامل نہ کر لےـ

ظاہری دعوؤں کے برعکس مسلم لیگ (ن) نے جنوری سن 2013 میں بھی نئے صوبوں کی تخلیق کے لیے بنائے جانے والے پارلیمانی کمیشن کی رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ ان کے نمائندے اس کمیشن میں شامل نہیں تھے اور یہ کہ کمیشن صرف ایک صوبے پر فوکس کر رہا ہے جبکہ وہ خیبر پختونخوا میں دوسرے صوبہ یعنی ’ہزارہ‘ بنانے کے بھی خواہاں ہیں۔ مزید براں ان کا کہنا تھا کہ یہ سینیٹ بل اور آئینی ترمیمی بل درکار پروسیجر کو بالائے طاق رکھ کر ڈرافٹ کیا گیا ہے۔ بعد میں انہوں نے یہ موقف بھی نتھی کر دیا کہ بہاولبور کو الگ صوبائی حیثیت دیے بغیر نئے صوبہ کی تخلیق کے مطالبے کو وہ تسلیم نہیں کر سکتے۔

Pakistan | Feiernde Anhänger von Imran Khan 2013 (picture-alliance/dpa/A. Arab)

پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب میں بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں

سرائیکی دانشوروں اور قوم پرستوں کے ایک دھڑے کا خیال ہے کہ لفظ ’سرائیکی‘ کے بغیر صوبے کی تخلیق نہ صرف ادھوری بلکہ بے معنی، غیر مؤثر، غیر مکمل اور کمزور ہو گی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرائیکی لسانی اور ثقافتی شناخت کو مزید کمزور کرے گی۔ اُن کے خیال میں سرائیکی صوبے میں خیبر پختونخوا کے دو اضلاع  یعنی ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہونے چاہئیں کیونکہ یہ دونوں اضلاع  تاریخی، لسانی اور ثقافتی لحاظ سے ہمیشہ سرائیکی رہے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی اپنے منشور میں خیبر پختونخوا کے اندر سرائیکی شناخت اور ثقافتی تحفظات کو تو تسلیم کرتی ہے لیکن ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کو مجوزہ جنوبی پنجاب یا سرائیکی صوبے کے ادغام کو مسترد کرتی ہے۔ دوسری جانب بلوچ قوم پرست اور قومی پارٹیاں بشمول نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کو سرے سے سرائیکی اضلاع تسلیم ہی نہیں کرتیں۔

تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ سیاستدان، دانشور اور سیاسی کارکن تین ڈویژنوں ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور پر مشتمل ایک الگ صوبہ بنانا چاہتے ہیں، جس کا نام جنوبی پنجاب صوبہ ہو۔ مجموعی طور پر یہ 10 اضلاع پر مشتمل ایک صوبہ بنتا ہے۔ اس تجویز کافی کم حمایت حاصل ہے کیونکہ اس میں جھنگ اور میانوالی جیسے خالصتا سرائیکی اضلاع  تک شامل نہیں ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیار کیے بغیر اور کوئی آئینی بنیاد رکھے بغیر جنوبی پنجاب صوبے کا بگل بجاتی رہی ہے۔ انتخابی نعروں سے آگے گزر کر اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ تحریک انصاف سرائیکی صوبے کی تخلیق میں کیا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے لیے موقع ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے کیے ہوئے کاموں کو اگے بڑھاتے ہوئے سرائیکی صوبہ یا جنوبی پنجاب صوبہ بنا ڈالے اور اسے یقین ہونا چاہیے کی اس اقدام سے اُس کے اگلے انتخابات میں جیتنے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں اور کسی بھی پارٹی کے لیے اس سے زیادہ خوش آئند بات کیا ہو سکتی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات