1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہڈیوں کے گودے کے اسٹیم سیلز سے مہلک بیماریوں کا علاج ممکن

14 ستمبر 2010

امریکی طبی محققین کی تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ ہڈیوں کے گودے سے لئے ہوئے Stem Cells کی مدد سے جلدی بیماریوں، معدے سے انتڑیوں تک جانے والی نالی میں پائی جانے والی اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔

https://p.dw.com/p/PBXf
انسانی جسم میں پائے جانے والے خون کے خلیے کا نقص سرطان کا باعث بنتا ہےتصویر: picture-alliance / dpa

حال ہی میں شائع ہونے والی دو تحقیقی رپورٹوں میں طبی سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ہڈیوں کے گودے سے لئے گئے Stem Cells یا خام خلیوں کی مدد سے بچوں کی جلدی بیماریوں اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا علاج ممکن ہے- یہ تحقیق امریکی ریاست مِنیسوٹا کی یونیورسٹی کے دو طبی ماہرین ڈاکٹر جان واگنر اور جیکب تولار نے مکمل کی ہے- انہوں نے ہڈیوں کے گودے سے لئے گئے Stem Cells سے جلد کی ایک خاص بیماری، جو موروثی ہوتی ہے، کا کامیاب علاج کیا ہے-

طبی اصطلاح میں اس عارضے کو RDEB یا Recessive Dystrophic Epidermolysis Bullosa کہا جاتا ہے- پہلی بار طبی محققین کی تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ ہڈیوں کے گودے سے لئے ہوئے Stem Cells کی مدد سے جلدی بیماریاں اور معدے سے انتڑیوں تک جانے والی نالی میں پائی جانے والی بیماریوں کا علاج ممکن ہے اور اس سے جلد پر بننے والے آبلے یا چھالے اور جلد کے کسی وجہ سے پھٹ جانے یا جلد پر ہلکی سی رگڑ لگنے سے اس پر بننے والے زخم، جو اس سے قبل لاعلاج امراض سمجھے جاتے تھے، کا علاج اب ممکن ہو گیا ہے-

Bohrkanal einer Milbe (rechter Fuß), ist schon über eine Woche alt
بہت سی جلدی بیماریاں موروثی ہوتی ہیں

Epidermolysis Bullosa نامی بیماری محض جلدی عارضوں کی شکل میں سامنے نہیں آتی بلکہ منہ اور غذائی نالی کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے کھانے کے عمل میں تکلیف محسوس ہوتی ہے- اکثر بچے کھانا کھانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس عمل کے دوران تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔ تاہم اب تک اس بارے میں شعور کی کمی تھی کہ اس تکلیف کا سبب Epidermolysis Bullosa کا عارضہ ہو سکتا ہے- اس تحقیق کے لئے سات بچوں پر تجربات کئے گئے جو Epidermolysis Bullosa میں مبتلا تھے اور یہ تحقیق دو سال کے عرصے پر محیط تھی- ان میں سے دو بچے دوران تحقیق موت کے منہ میں چلے گئے- ایک ’بون میرو ٹرانسپلانٹ‘ یا ہڈی کے گودے کی پیوند کاری سے پہلے اور ایک اس عمل کے بعد- تاہم ڈاکٹر تولار کے مطابق پانچ بچوں کی حالت اس پیوند کاری کے تجربے کے بعد سے بہت بہتر ہے- اُن کی جلد بہتر ہو گئی ہے اور اُن کی جسمانی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے- اب پہلے کی طرح ان کی جلد زخمی نظر نہیں آتی اور اس طرح ان کی جلد پر پٹیاں لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی- ڈاکٹر تولار کا کہنا ہے کہ پیوند کاری کے بعد سے ان بچوں کے جسموں میں Collagen 7 پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے-

انسانی جلد کی دو پرتیں پائی جاتی ہیں- بیرونی جلدی تہہ کو Epidermis جبکہ اندرونی تہہ کو Dermis کہا جاتا ہے- ان دونوں کو آپس میں جوڑنے والے مادے کو Collagen 7 کہتے ہیں اور یہ ایک قسم کی پروٹین ہوتی ہے- طبی محققین کے مطابق Epidermolysis Bullosa کے مریضوں کی جلد میں یہ مادہ نہیں پایا جاتا-

اگرچہ ابھی ان بچوں کے جسموں پر کچھ زخم باقی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر اس بیماری سے صحت یاب نہیں ہوئے تاہم ڈاکٹر تولار کہتے ہیں کہ اس طریقہ علاج سے ان بچوں کو نئی زندگی ملی ہے۔ ’’اب وہ ٹھیک طور سے کھانا کھا رہے ہیں، چل پھر رہے ہیں اور عام بچوں کی طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ پیوند کاری سے پہلے ان بچوں کے لئے یہ سب کچھ خواب و خیال تھا-‘‘

03.02.2010 DW-TV fit und gesund magen darm 3
Epidermolysis Bullosa نامی بیماری غذا کی نالی اور انتڑیوں کو بھی متاثر کرتی ہےتصویر: DW-TV

ڈاکٹر واگنر اور جیکب تولار نے 2007 سے اب تک Epidermolysis Bullosa بیماری کے شکار 12 مزید بچوں کا علاج اسی طریقے سے کیا ہے- ان بچوں کے ہڈی کے گودے کی پبوند کاری کی مدد سے کئے جانے والے علاج کے نتائج مختلف درجات میں سامنے آئے ہیں- اس کا انکشاف New England Journal of Medicine میں چھپنے والی ایک رپورٹ سے ہوا ہے-

Journal of Bilogical Chemistry میں شائع ہونے والی ایک دوسری رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ سان فرانسسکو میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ہسپتال میں طبی سائنسدانوں نے ہڈی کے گودے سے حاصل شدہ اسٹیم سیلز کی مدد سے پھیپھڑوں کی ایسی پیچیدہ بیماریوں کا علاج کیا ہے، جن کی وجہ سے اکثر اُن مریضوں کا عمل تنفس بند ہو جاتا تھا جو اس ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیر علاج تھے-

اس یونیورسٹی کے کارڈیو ویسکیولر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے دو محققین مائیکل میتھے اور جے لی نے مصنوعی طور پر تیار کردہ انسانی پھیپھڑوں پر یہ تجربہ کیا- ان پھیپھڑوں میں کیمیائی ذرائع سے سوزش پیدا کی گئی پھر اُن میں ہڈیوں کے گودے سے حاصل کئے گئے اسٹیم سیلز ڈالے گئے اور اس عمل سے پھیپھڑوں میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا گیا- اس عمل کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر لی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ غیر صحت مند پھیپھڑے کی جھلی میں سوراخ ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے پھیپھڑوں میں سیال مادہ داخل ہو جاتا ہے جس سے پھیپھڑوں میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے- وہ کہتے ہیں: ’’جب ہم نے اُن میں ہڈی کے گودے کے اسٹیم سیلز کی پیوند کاری کی تو ان خلیات نے پھیپھڑوں کو سیال مادے سے محفوظ کر دیا-

Arterien und GFP positive Zellen
دل اور پھیپھڑوں کی شریانے نہایت حساس ہوتی ہیںتصویر: picture-alliance/ dpa

اس تحقیقی رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح سے ہڈی کے گودے کے اسٹیم سیلز پھیپھڑوں کے غلاف کو اس کی اصل حالت میں محفوظ کر لیتے ہیں- ان محققین کا کہنا ہے کہ اپنی ریسرچ کے اگلے مرحلے میں وہ یہ ثا بت کر سکیں گے کہ اس طریقہ علاج کے ذریعے تشویشناک حالت والے مریضوں کے عمل تنفس کو جاری رکھنے میں بھی انہیں کامیابی حاصل ہوئی ہے-

ہڈی کے گودے کے اسٹیم سیلز سے جلد اور پھیپھڑوں کی مخصوص اور پیچیدہ بیماریوں کے علاج کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس تجربے میں انسانی جنین کے سیلز یا ایمبریونک سیلز نہیں بلکہ پختہ ہڈیوں کے گودے سے لئے گئے سٹیم سیلز استعمال کئے گئے ہیں- ایمبریونک اسٹیم سیلز یا انسانی جنین کے سیلز کا تجربہ ترقی یافتہ ممالک میں اختلاف رائے کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ انسانی جنین کے سیلز کو تباہ کر کے ایسے سیلز حاصل کئے جاتے ہیں جو جسم کے تقریبا ہر ٹشو یا ریشے میں بڑھنے یا ارتقا کے قابل ہوں- تاہم یہ چند مہلک بیماریوں کے علاج کے لئے نہایت حوصلہ افزا ثابت ہوئے ہیں۔ مثلا سرطان، ذیابیطس اور Alzheimer وغیرہ- یہی سیلز پیوند کاری کے لئے اعضاء اور ٹشوز کی تیاری میں بھی نہایت کارآمد ثابت ہوئے ہیں-

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں