1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پیرس حملوں کے شکار افراد کو خراج تحسین

27 نومبر 2015

پیرس میں دوہفتے قبل دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کو آج ایک خصوصی تقریب میں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1HDSY
تصویر: Getty Images/AFP/P. Wojazer

دہشت گردانہ حملوں کے بعد خوف کے شکار فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں یہ خصوصی تقریب شہر کے فوجی عجائب گھر کے قریب منعقد کی گئی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس تقریب میں قریب دو ہزار افراد شریک ہوئے۔

آج جمعہ 27 نومبر کی صبح ہونے والی اس خصوصی تقریب میں حملوں کا نشانہ بننے والے تمام 130 افراد کے نام با آواز بلند پڑھے گئے۔ ٹھیک دو ہفتے قبل یعنی جمعہ 13 نومبر کی شام ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے دوران پیرس کے فٹبال اسٹیڈیم، ایک کنسرٹ ہال اور شہر کے کئی بارز اور ریستورانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں میں دیگر 350 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

پیرس کے ملٹری میوزیم 'انوالیڈیز‘ کے صحن میں منعقد کی جانے والی اس تقریب میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ شریک تھے۔ اس کے علاوہ حملوں کے دوران زخمی ہونے والے افراد بھی موجود تھے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کی سربراہی میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں فوجی بینڈ کی طرف سے ملک کا قومی ترانہ بجایا گیا جس کے بعد تقریب میں شریک لوگوں نے مرنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تقریب کے موقع پر ارد گرد کی عمارتوں کے اوپر اور ان کی ونڈوز پر فرانسیسی پرچم لگائے گئے تھے۔ تاہم ایک بند جگہ پر کی جانے والی اس خصوصی تقریب میں شریک لوگوں کی تعداد کو کم ہی رکھا گیا۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں پیرس ہی میں ایک شارلی ایبدو پر ہونے والے حملوں کے بعد جو یاددگاری تقریب منعقد کی گئی تھی اس میں 10 لاکھ کے قریب لوگ شریک ہوئے تھے۔

تقریب میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ شریک تھے۔ اس کے علاوہ حملوں کے دوران زخمی ہونے والے افراد بھی موجود تھے
تقریب میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ شریک تھے۔ اس کے علاوہ حملوں کے دوران زخمی ہونے والے افراد بھی موجود تھےتصویر: Getty Images/AFP/M. Medina

آج 27 نومبر کو ہونے والی تقریب میں کسی کو بھی بغیر دعوت نامے کے شرکت کی اجازت نہیں تھی جبکہ اس تقریب کی تصاویر بھی فرانسیسی فوج کی طرف سے ہی میڈیا کو فراہم کی گئیں۔

پیرس حملوں کی ذمہ داری شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے قبول کی تھی۔ ان حملوں کے بعد فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے اس تنظیم کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا۔ رواں ہفتے انہوں نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، امریکی صدر باراک اوباما، جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقاتیں کی ہیں۔ اولانڈ کی کوشش ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ کے لیے ایک مؤثر بین الاقوامی اتحاد تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے گزشتہ شب ہی ماسکو میں پوٹن سے ملاقات کی جس میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائیوں میں قریبی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ فرانسوا اولانڈ نے اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہا کہ مستقبل میں آئی ایس کے خلاف فضائی کارروائیاں زیادہ موثر اور مربوط انداز میں کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں معلومات کے تبادلے کے نظام کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔ روس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئندہ سے ان جنگجو گروپوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، جو آئی ایس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔