1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

وکی لیکس کے انکشافات، امریکی ایوانوں میں ہلچل

26 جولائی 2010

دُنیا بھر میں انٹرنیٹ وَیب سائٹ وِکی لِیکس کی طرف سے افغانستان جنگ کے حوالے سے تقریباً بانوے ہزار خفیہ دستاویزات کی اشاعت بڑے پیمانے پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔ واشنگٹن سے زابینے ملر کا لکھا جائزہ۔

https://p.dw.com/p/OUku
افغانستان میں سرگرم نیٹو فوجیتصویر: picture-alliance/ dpa

افغانستان میں سلامتی کی صورتِ حال کے حوالے سے ایک تشویشناک منظر پیش کرنے والی اِن دستاویزات کی بہت بڑی تعداد ہی امریکی حکومت کے لئے شدید غصے اور اشتعال کا باعث ہو گی۔ یہ امریکی فوج کے ڈیٹا بینک سے لی گئی مجموعی طور پر اکیانوے ہزار سات سو اکتیس رپورٹیں ہیں، جن کی بڑی تعداد کو خفیہ قرار دیا گیا تھا۔ اِن میں پیش کی گئی اکثر تفصیلات نئی نہیں ہیں لیکن یہ اِس سے پہلے اتنی تفصیل سے اور اتنی جزیات کے ساتھ کبھی منظرِ عام پر نہیں آئی تھیں۔ یہ دستاویزات سن 2004ء سے لے کر سن 2009ء تک جنگ کے چھ برسوں کا احاطہ کرتی ہیں اور جنگ کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہیں، جس میں لگی لپٹی رکھے بغیر اور سینسر کئے بغیر سب کچھ بیان کر دیا گیا ہے اور وہ بھی اُن لوگوں کے ذریعے، جو یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔

Zurück zur alten Rechschreibung
جرمن ہفت روزہ جریدے ’ڈیئر شپیگل‘ سمیت تین ممتاز بین الاقوامی جرائد نے کئی ہفتوں کی چھان بین کے بعد اِن دستاویزات کے اصلی ہونے کی سند دیتصویر: AP

اِن دستاویزات میں طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اتحادی اَفواج کے ایسے حملوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں، جن کا کبھی اعلان نہیں کیا گیا اور جن میں مجموعی طور پر سینکڑوں افغان شہری مارے گئے۔ اِن میں اُن انتہائی خفیہ کمانڈوز کا ذکر بھی ہے، جنہیں طالبان کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے پر مامور کیا گیا۔ اِن میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ باغیوں کو بیرونِ ملک سے امداد فراہم کرنے والی سب سے بڑی قوت امریکی حلیف ملک پاکستان کی خفیہ سروس ہے۔

امریکہ میں متعینہ پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اِن معلومات کی اشاعت پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ انکشافات ایسی خام دستاویزات پر مشتمل ہیں، جن کی جانچ کا باقاعدہ کام ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اور جو آج کل کے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔

اِن دستاویزات کے قاری کو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ کئے جانے والے ڈرون حملے اُتنے اچھے طریقے سے کام نہیں کر رہے، جتنا کہ امریکی فوج کہتی ہے اور یہ کہ طالبان اُس سے کہیں زیادہ جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں، جتنا کہ اتحادی اَفواج بتاتی ہیں۔

اپنے نت نئے انکشافت سے ہر بار تہلکہ مچا دینے والی وَیب سائیٹ وکی لیکس کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اُس نے خود کو ملنے والی چند ایک دستاویزات منظرِ عام پر لانے سے گریز کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے مخبروں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے یا پھر حقیقی نوعیت کے فوجی راز افشا ہو سکتے ہیں۔

James L. Jones Nationale Sicherheitsberater USA
اوباما کے مشیر برائے امورِ سلامتی جیمز جونز نے اِن دستاویزات کی اشاعت کی سخت مذمت کی ہےتصویر: AP

وکی لیکس نے جو دستاویزات جاری کی ہیں، اُنہیں اِن کی اشاعت سے پہلے تین ممتاز جرائد، جرمنی کے ’ڈیئر شپیگل‘، امریکہ کے ’نیویارک ٹائمز‘ اور برطانیہ کے ’دی گارڈین‘ نے کئی ہفتوں تک اچھی طرح سے جانچا اور پھر یہ فیصلہ دیا کہ یہ دستاویزات اصلی ہیں۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق یہ دستاویزات چھوٹی چھوٹی جزیات کے ساتھ یہ بتاتی ہیں کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں تقریباً 300 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ایسا کیوں ہے کہ طالبان اتنے زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں، جتنا کہ وہ سن 2001ء کے بعد سے کبھی بھی نہیں تھے۔ ’دی گارڈین‘ کے مطابق یہ دستاویزات ’ایک ناکام جنگ کی تباہ کن تصویر‘ دکھاتی ہیں۔ ’ڈیئر شپیگل‘ نے اِن دستاویزات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شمالی افغانستان، جہاں جرمن دَستے سرگرمِ عمل ہیں، زیادہ سے زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی حکومت کے نقطہء نظر سے دیکھا جائے تو اِن دستاویزات کی اشاعت کے لئے اِس سے غیر موزوں وقت اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ امریکی کانگریس اور عوام میں آج کل یہ شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں کہ آیا صدر باراک اوباما کی افغانستان سے متعلق حکمتِ عملی درست ہے اور آیا آئندہ موسمِ گرما میں درحقیقت ابتدائی امریکی دَستوں کی وطن واپسی شروع بھی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری اور شدید ردعمل سامنے آیا اور اوباما کے مشیرِ سلامتی جیمز جونز نے اِن دستاویزات کی اشاعت کی شدید مذمت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ اِن خفیہ معلومات کی اشاعت امریکیوں اور امریکہ کے حلیفوں کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دے گی۔ صحافیوں کے نام ایک مراسلے میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وکی لیکس کوئی معروضی حقائق پیش کرنے والا خبر رساں ذریعہ نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تنظیم ہے، جو افعانستان میں امریکی حکمتِ عملی کو رَد کرتی ہے۔

رپورٹ: زابینے ملر (واشنگٹن) / امجد علی

ادارت: مقبول ملک