1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

نیوزی لینڈ میں زلزلہ، کم از کم 65 افراد ہلاک

22 فروری 2011

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں منگل کو 6.3 شدت کا زلزلہ آیا ہے، جس سے کم از کم 65 افراد کے ہلاک اور کئی عمارتیں زمیں بوس ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کرائسٹ چرچ میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔

https://p.dw.com/p/10LYd
تصویر: AP

شہر کے میئر نے آج ’یوم سیاہ‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ شہر کے میئر باب پارکر نے ریڈیو نیوزی لینڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہر کسی کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کا دن ہم سب کی زندگیوں میں سیاہ دن کے طور پر طلوع ہوا ہے۔‘

پارکر کا کہنا تھا کہ زلزلے کی وجہ سے وہ سڑک پر گر پڑے تھے جبکہ کئی افراد بھاگ رہے تھے اور کئی پریشان ہو کر رو رہے تھے۔ میئر کے مطابق اس شہر میں چار لاکھ افراد مقیم ہیں جبکہ بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور افراد کے زخمی ہونے کا خدشہ ہے۔

پولیس حکام کے مطابق کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جبکہ کئی شہریوں کو بچایا جا چکا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں کرائسٹ چرچ میں آنے والا یہ دوسرا بڑا زلزلہ ہے۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز شہر سے پانچ کلومیٹر دور چار کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ کا دوسرا بڑا شہر ہے، جہاں گزشتہ سال بھی 7.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق خوف کی وجہ سے ہزاروں افراد سڑکوں پر موجود ہیں جبکہ کم شدت والے زلزلے کے جھٹکے ابھی بھی جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق زلزلہ دوپہر کے وقت آیا جب دکانیں خریداروں سے بھری ہوئی تھیں۔ شہر کے مرکزی گرجا گھر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

آسٹریلیا نے اس قدرتی آفت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ’سانحہ‘ قرار دیا ہے جبکہ ایک امدادی ٹیم بھی نیوزی لینڈ روانہ کر دی گئی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل