1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ماحول دوست سولر رکشہ، پاکستانی طالب علم کی کاوش

عنبرین فاطمہ، کراچی9 اپریل 2014

کراچی کے ایک نوجوان طالب علم نے ایک ایسا رکشہ تیار کیا ہے جو سولر انرجی سے چلتا ہے اور انتہائی ماحول دوست ہونے کے علاوہ سفری لاگت میں بھی انتہائی کم ہے۔

https://p.dw.com/p/1BeQj
تصویر: Iqra University Karachi

کراچی کی اقراء یونیورسٹی میں الیکڑانکس ڈپارٹمنٹ کے طالبعلم راشد عالم کا تعلق اس نوجوان طبقے سے ہے جو اپنی ذہانت کے بل بوتے پر ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے انتہائی پُر عزم ہے۔ راشد بیچلرز کے آخری سال کے طالبعلم ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے پیٹرول کی بڑھتی قیمت اور سی این جی کی ہفتہ وار بندشوں کے باعث عوام کو ٹرانسپورٹ کے حوالے سے ہونے والی مشکلات سے کسی حد تک چھٹکارا دلانے کے لیے ایک عام رکشے کو سی این جی اور پیڑول سے شمسی اور برقی توانائی پر منتقل کرنے کا تجربہ کیا ہے۔ اپنی یونیورسٹی کے لیے کیے جانے والے اس پراجیکٹ کو انہوں نے “Solect hybrid” کا نام دیا ہے۔

راشد کے علاوہ ان کے گروپ میں 10طالبعلم تھے جنہوں نے دن رات کی محنت سے اس رکشہ پراجیکٹ کی تکمیل کی
راشد کے علاوہ ان کے گروپ میں 10طالبعلم تھے جنہوں نے دن رات کی محنت سے اس رکشہ پراجیکٹ کی تکمیل کیتصویر: Iqra University Karachi

اپنے شمسی اور برقی ہائبریڈ رکشہ پراجیکٹ کے حوالے سے ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے راشد نے بتایا، ’’اس کا جو بنیادی انجن ہے، وہ فیول پر نہیں کام نہیں کرتا بلکہ موٹر پر کام کرتا ہے۔ اس کے لیے رکشے کی پچھلی جانب بیٹریز لگائی گئی ہیں جوشمسی اور برقی توانائی سے چارج ہوتی ہیں۔ اگر موسم کی خرابی کے سبب شمسی توانائی سے بیٹریز چارج نہ ہو سکیں تو اسے آپ اپنے گھر پر برقی توانائی سے بھی چارج پر لگا سکتے ہیں۔ دن میں یہ رکشے پر لگائے گئے سولر پینلز سے حاصل ہونے والی بجلی سے چارج ہوتی رہتی ہیں۔‘‘

راشد کے مطابق یہ رکشہ سفری لاگت کے اعتبار سے انتہائی عوام دوست ہے، ’’ہم نے جو حساب لگایا اس کے مطابق ہمارے اس ہائبرڈ رکشے پر فی کلومیٹر لاگت صرف 75 پیسے ہے جبکہ سی این جی رکشہ فی کلومیٹر جو خرچ کرتا ہے وہ تین روپے ہے۔ اگر سی این جی رکشہ پاکستان میں کامیاب ہو سکتا ہے تو یہ اس سے بھی زیادہ کامیاب ہو گا۔‘‘

رکشے کی پچھلی جانب بیٹریز لگائی گئی ہیں جوشمسی اور برقی توانائی سے چارج ہوتی ہیں
رکشے کی پچھلی جانب بیٹریز لگائی گئی ہیں جوشمسی اور برقی توانائی سے چارج ہوتی ہیںتصویر: Iqra University Karachi

راشد کے علاوہ ان کے گروپ میں 10طالبعلم تھے جنہوں نے دن رات کی محنت سے اس رکشہ پراجیکٹ کی تکمیل کی۔ راشد کے مطابق اس رکشے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ بہت ماحول دوست ہے، ’’یہ رکشا بالکل بھی آلودگی کا سبب نہیں بنے گا کیونکہ اس سے کوئی دھواں نہیں نکلتا اور یہ ہی کوئی شور ہوتا ہے۔ یہ سی این جی یا پیٹرول کے بجائے بیڑی سے چلتا ہے اس لیے یہ انتہائی ماحول دوست ہے۔‘‘

اس پراجیکٹ کے کو آرڈینیٹر ڈاکٹر عابد کے مطابق نجی کمپنیوں کی جانب سے تو اس میں دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر حکومت کی طرف سے اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے اب تک کوئی رابطہ نہیں ہوا، ’’اب تک کئی نجی کمپنیوں نے ہم سے رابطہ کیا ہے اور وہ اس ٹیکنالوجی میں دلچسپی لے رہی ہیں اور اسے خریدنا چاہتی ہیں۔ تاہم اب تک حکومت کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔ لیکن ہمارا کام ہے ریسرچ کرتے رہنا۔ اسی لیے اب ہم قابل تجدید توانائی کے ذریعے چلنے والی سائیکل اور رکشے کے بعد ہائبرڈ گاڑی تیار کرنے کے منصوبے پر کام کریں گے۔‘‘

اس پراجیکٹ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اس پر بہت بڑی لاگت نہیں آئی۔ راشد عالم کے مطابق اس کو مکمل کرنے کے لیے پونے دو لاکھ پاکستانی روپے کی لاگت آئی ہے۔ یہ رکشہ مکمل طور پر آٹومیٹک ہے اور یہ چالیس میل فی گھنٹے کی رفتار سے فاصلہ طے کر سکتا ہے۔