1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

لیبیا کے رستے یورپ کی طرف ہجرت کے خدشات

عاصم سليم29 اپریل 2016

جرمن وزير داخلہ کے مطابق برلن حکومت ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ ترکی والے روٹ کی بندش کے بعد اس سال موسم گرما ميں مہاجرين ليبيا سے بحيرہ روم کا سفر کرتے ہوئے اٹلی کے رستے يورپی براعظم پہنچنے کی کوششيں کر سکتے ہيں۔

https://p.dw.com/p/1IfEd
تصویر: picture-alliance/AA/B. Akay

جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا ہے کہ بلقان کے خطے سے گزرنے والے روٹ کی بندش کے سبب مہاجرين اب جرمنی اور يورپ نہيں پہنچ سکتے۔ تاہم انہوں نے خبردار کيا کہ ليبيا اور اٹلی کے راستے يورپ پہنچنے والے مہاجرين کی تعداد ميں اضافہ عین ممکن ہے۔ ڈی ميزيئر نے يہ بيان اپنے آسٹريا کے ہم منصب والٹر سبوٹکا کے ساتھ جمعے انتيس اپريل کو ہونے والی ملاقات کے بعد ديا۔

چند روز سے اس بارے ميں مختلف بيانات اور خدشات سامنے آ رہے ہيں کہ يورپی يونين اور ترکی کے درميان معاہدے کے بعد پناہ گزين يورپ تک رسائی کے متبادل راستوں کی تلاش ميں ہيں اور ايسا ہی ايک ممکنہ روٹ ليبيا سے بحيرہ روم کے راستے اٹلی تک رسائی والا روٹ ہے۔ کئی يورپی اہلکاروں کے مطابق ڈيل اور مشرقی بحيرہ روم ميں مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کے بحری مشن کے سبب يورپ تک پہنچنے کے خواہاں افراد دوبارہ ليبيا کا رخ کر سکتے ہيں۔

برلن ميں آسٹريا اور جرمنی دونوں ملکوں کے وزرائے داخلہ نے مطالبہ کيا کہ اٹلی کو اپنے جنوبی ساحلی علاقوں کی نگرانی بڑھانے کے ليے اضافی اقدامات کرنے چاہييں۔ جرمن شہر پوٹس ڈام ميں جمعے کے روز ايک نيوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے کہا، ’’يہ بات واضح ہے کہ بلقان ممالک والا روٹ اب ماضی کی بات ہے اور اب اس راستے سے لوگ آسٹريا، جرمنی اور يورپ کے مرکز تک نہيں پہنچ سکتے۔‘‘ ان کے بقول اب مسئلہ متبادل راستوں کا ہے۔

تھوماس ڈے ميزيئر اپنے آسٹريا کے ہم منصب والٹر سبوٹکا کے ساتھ
تھوماس ڈے ميزيئر اپنے آسٹريا کے ہم منصب والٹر سبوٹکا کے ساتھتصویر: picture-alliance/dpa/R. Hirschberger

قريب ايک ہفتے قبل ليبيا کے نائب صدر نے اس اميد کا اظہار کيا تھا کہ مہاجرين کی يورپ کی جانب ہجرت کو روکنے کے ليے اُن کے ملک اور يورپی يونين کے مابين اُسی طرز کا معاہدہ طے ہو سکے گا جيسا کہ ترکی اور يورپی بلاک کے درميان ہے۔ يہ ملک سن 2011 ميں سابق آمر معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹائے جانے اور ہلاکت کے بعد سے انتشار کا شکار ہے۔ کئی افريقی ملکوں سے تارکين وطن يورپ پہنچنے کے ليے ليبيا کی سرزمين استعمال کرتے ہيں۔

يہ امر اہم ہے کہ ليبيا سے اٹلی تک کے سفر کو ترکی سے يونان تک کے سفر کے مقابلے ميں زيادہ خطرناک مانا جاتا ہے اور اس روٹ پر واقع ہونے والی اموات کی شرح بھی مقابلتاً زيادہ ہے۔ بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران بارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔