1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عمران خان پرحملےکا مقدمہ درج کرنےکے لیے 24 گھنٹوں کی مہلت

عبدالستار، اسلام آباد
7 نومبر 2022

پی ٹی آئی نےعدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ مقدمہ کا درست اند راج نہ ہوا تواسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کی مرضی کے مطابق مقدمے کا اندراج فوج کو مزید ناراض کر سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/4J9o3
Pakistan l  PTI-Chef Imran Khan spricht auf einer Pk im Shaukat Khanum Hospital in Lahore
تصویر: PTI Media Cell

 سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کو ہدایت کی ہےکہ وہ چوبیس گھنٹے میں عمران خان پر حملے کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اس عدالتی فیصلے کا محتاط خیر مقدم کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب پولیس مدعی کے بیان کے مطابق  ایف آئی آر  درج نہیں کرتی  تو ان کی جماعت اس طرح کے  مقدمے کا اندراج قبول نہیں کرے گی۔  اس حوالے سے پارٹی کے ایک رہنما اور سابق مشیر برائے فوڈ سکیورٹی جمشید اقبال چیمہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف آئی آر میں میجر جنرل فیصل نصیر کا نام شامل کیا جائے۔ اگر اس کا نام شامل نہیں کیا جاتا تو ہم اس کو ایف آئی آر ہی نہیں مانیں گے۔‘‘

حکومت عمران خان کی تقریریں نشر کرنے پر سے پابندی ہٹانے پر کیوں مجبور ہوئی؟

Pakistan | Unterstützer des früheren Premierministers Imran Khan
پی ٹٰی آئی نے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کر کے اب یہ مارچ دس نومبر کودوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہےتصویر: K.M. Chaudary/AP Photo/picture alliance

’تلخی میں اضافہ‘

مبصرین کے خیال میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کے لیے یہ مشکل ہوگا کہ وہ ایف آئی آر درج نہ کرے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر درج ہو جائے گی۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، '' اس ایف آئی آر میں عمران خان جو چاہتے ہیں وہ بھی ہو جائے گا۔ یعنی ان کا موقف بھی ایف آئی آر میں شامل کر لیا جائے گا۔  لیکن ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بنی گالا اور جی ایچ کیو میں تلخیاں مزید بڑھ جائیں گی۔‘‘

عمران خان کا لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں مختلف لوگوں کے ناموں کے اندراج کے حوالے سے ہچکچاہٹ اس لئے ہے کہ پاکستان کی تاریخ اس حوالے سے تلخ ہے۔  ''ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹی گئی تھی اور وہ ان کو تختہ دار تک لے کر چلی گئی تھی۔ بالکل اسی طرح اگر شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور اس افسر کے خلاف ایف آئی آر کٹ جاتی ہے، تو وہ ایک تلوار کی طرح ان کے سروں پر لٹکی رہے گی۔‘‘

Pakistan |  General Babar Iftikhar
عمران خان نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے حالیہ بیانات کے خلاف صدر عارف علوی کو ایک خط لکھا ہےتصویر: Aamir Qureshi/AFP

دفاعی مبصر ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ فوجی افسر کے خلاف ایف آئی آردرج کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، '' کیونکہ ایف آئی آر کے کاٹنے سے بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے اسے لٹکا کے رکھا جائے گا اور اس میں تاخیر کی جائے گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایف آئی آر میں فوجی افسر کا نام ہی شامل نہ کیا جائے۔‘‘

حکومت، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ، سبھی اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں

 اسی دوران  عمران خان  نے صدرعارف علوی کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یا  آئی ایس پی آر کی آئینی حدود کے تعین کے حوالے سے خط بھی لکھا ہے۔   انہوں نے خط میں مطالبہ کیا کہ وہ سربراہِ ریاست اور فوج کے سپریم کمانڈر کے طور پر سنگین غلط اقدامات کا نوٹس لیں۔ خیال رہے کہ آئی ایس پی آر فوج کی جانب سے مسلسل اپنے ادارے اور چند افسران پر سیاسی مداخلت کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کا دفاع کر تا آیا ہے۔

کمیشن کی تجویز اور سیاست دانوں میں اتفاق

اس سے قبل جمعرات کو وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان پر حملے کے بعد ان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کے لئے ایک فل کورٹ عدالتی کمیشن قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان کی طرف سے اس تجویز کا خیرمقدم مثبت ہے اور یہ کہ سیاست دانوں کو کچھ اصولوں پر اتفاق کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اتفاق کے لئے ان کے کچھ مطالبات ہیں۔

عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد پاکستان میں احتجاجی مظاہرے

جمشید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ تین معاملات پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ ''حکومت ایف آئی آر درج کرے اور اس کی صاف اور شفاف تفتیش کرائے۔  دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر حکومت ایسا کوئی فارمولا لے کر آتی ہے، جس کے تحت پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو ان کی آئینی حدود میں رکھا جائے اور ان کو سیاست میں مداخلت سے مکمل طور پر روکا جائے تو ہم اس پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔ تیسرا نقطہ  صاف اور شفاف الیکشن  ہے۔‘‘

Prime Minister Shahbaz Sharif
وزیر اعظم شہباز شریف نے عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمشین تشکیل دینے کی تجویز دے رکھی ہےتصویر: National Assembly of Pakistan/AP/picture alliance

حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ عدالتی کمیشن کی تشکیل بہت مشکل ہے۔ ''غالبا شہباز شریف نے یہ تجویز اس لیے دی ہے کہ وہ شاید قانون سے نابلد ہیں۔ اگر ہمارے سیاستدانوں نے تھوڑا سا قانون پڑھ لیا ہوتا، تو انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سپریم کورٹ کوئی تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور فل کورٹ کمیشن تو قانونی طور پر بن نہیں سکتا۔ شہباز شریف کی یہ تجویز کوئی معنی نہیں رکھتی۔‘‘

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس وقت ملک کی تینوں جماعتوں میں سے دو ایسی ہیں، جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے عذاب کا شکار رہی ہیں  اور اب پی ٹی آئی جی ایچ کیو کے زیر عتاب ہے۔ لہذا تنیوں جماعتوں کو جمہوریت کے لئے کچھ امور پر اتفاق کرنا چاہیے۔ عائشہ صدیقہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں مختلف معاملات پر اتفاق ممکن ہے۔ ''لیکن پاکستان میں مشکل یہ ہے کہ جب ایک سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کا دامن چھوڑ تی ہے تو دو سیاسی جماعتیں دامن پکڑنے کے لیے تیار رہتی ہیں ورنہ حالات ایسے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کو کم از کم اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے گا اور ایجنسیوں کی سیاست میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘

 عائشہ صدیقہ کے مطابق حالات یہ بتا رہے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں کچھ آوازیں ایسی ہیں، جو یہ چاہتی ہیں کہ سیاست میں فوج کی مداخلت نہ ہو یا جاسوسی ایجنسیوں کا سیاسی معاملات میں کوئی عمل دخل نہ ہو۔'' لیکن دوسری طرف آصف علی زرداری اور دوسرے سیاستداں فوج کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ اس حوالے سے کوئی اتفاق رائے ہو جائے گا۔‘‘

دریں اثنا تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج اور جلوسوں کا سلسلہ پیر کے روز بھی جاری رہا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے مختلف مقامات پر  ٹائر جلا کر سڑکیں بند کیں اور حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی  جب کہ لاہور میں  فوج کے حق میں جلوس نکالا گیا ہے۔

عمران خان پر فائرنگ کے فوری بعد کے مناظر