1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عالمی طاقتوں کی کرزئی کو مبارکباد

3 نومبر 2009

عالمی طاقتوں نے افغان صدر حامد کرزئی کو اگلے پانچ سال کے لئے دوبارہ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اس شورش زدہ ملک سےبدعنوانی کے خاتمے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر زوردیا ہے۔

https://p.dw.com/p/KM0D
تصویر: AP

اس سے قبل افغانستان کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر عبدللہ عبدللہ کے بائیکاٹ کے بعد اب سات نومبر کو ہونے والا صدارتی انتخاب منعقد نہیں ہوگا، اس طرح کرزئی کو دوبارہ بطور صدر منتخب کر لیا گیا۔

واضح رہے کہ حامد کرزئی نے بیس اگست کے صدارتی انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی اُنچاس فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ تاہم انتخابات میں دھاندلی اور بے قاعدگی کی تحقیقات کے بعد، اقوام متحدہ کے زیرانتظام افغان الیکشن کمیشن برائے شکایات کے حکم پر دو سو سے زائد پولنگ اسٹیشنوں پر ڈالے گئے ووٹ کالعدم قرار دے دئے گئے تھے اور انتخابات کے دوسرے مرحلے کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔

Barack Obama in Afganistan (Barack Obama Hamid Karzai)
افغان اور امریکی صدور کابل میں (جولائی دو ہزار آٹھ فائل فوٹو)تصویر: AP

صدر کرزئی کےنام مبارکباد کے پیغامات میں عالمی رہنماؤں نے انہیں افغانستان میں قیام امن اور تعمیر نو کی کوششوں میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ان میں امریکی صدر باراک اوباما، برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن، فرانسیسی صدر نکولا سارکوزی، پاکستانی صدر آصف علی زرداری، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، جرمن وزیرخارجہ گیڈو ویسٹر ویلے شامل ہیں ۔

امریکی صدر نےواشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئےکہا کہ افغان سیکیورٹی اداروں کی تربیت کو مزید تیز کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اب دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔ اوباما نے کہا کہ ایک پیچیدہ انتخابی عمل کے بعد افغان دستور کے مطابق نتیجہ برآمد ہونا انتہائی خوش آئند ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے واشنگٹن سے بذریعہ ٹیلی فون حامد کرزئی سےکی گئی گفتگو میں ان پر واضح کیا کہ وقت آ گیا ہے کہ بہتر حکومتی عملداری اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بہت زیادہ سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔

اوباما کے بقول صدر کرزئی نے انہیں یقین دلایا کہ وہ صورتحال کی اہمیت سے واقف ہیں تاہم اوبامہ کے مطابق وہ اس سلسلے میں عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔

Wahlen in Afghanistan
دوسرے مرحلے کے لئے تیاریاں مکمل کرلی گئی تھیں۔تصویر: AP

کابل میں امریکی سفارتخانے نےصدرکرزئی کو تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نئی افغان انتظامیہ اور اپنے عالمی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس جنگ زدہ ملک میں امن اور ترقی کے لئے کوششیں کرے گا۔

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے صدر کرزئی پر قومی یک جہتی کے فروغ کے لئے زوردیا جبکہ فرانس نے یورپ-امریکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے کرزئی اور ڈاکٹر عبدللہ عبداللہ کے درمیان مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی اپنے اچانک دورے پر کابل پہنچے، جہاں انہوں نے صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کیں۔ حکام کے مطابق بان کی مون نے افغان رہنماؤں کو یقین دلایا کہ اقوام متحدہ افغانستان میں جمہوریت کے استحکام اور قومی اداروں کی مضبوطی کے لئے اپنی امداد جاری رکھے گا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : امجد علی