1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

طالبان نے امریکی فوج کی واپسی میں التوا کو مسترد کر دیا

22 فروری 2021

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ان کے جنگجو امریکی فوجیوں کی واپسی کی مدت میں توسیع پر کبھی رضامند نہیں ہوں گے۔

https://p.dw.com/p/3pgB5
Kämpfer der Taliban ARCHIVBILD 2008
تصویر: picture-alliance/dpa

طالبان نے افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی میں التوا کے امکان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ہمارے جنگجو امریکی فوجیوں کی واپسی میں کسی طرح کی توسیع پر کبھی بھی رضامند نہیں ہوں گے۔"

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ”ہمارے جنگجو کسی توسیع پر کبھی راضی نہیں ہوں گے۔" انہوں نے مزید کہا ’’نیٹو، امریکا اور تمام فریقین اس بات پر متفق ہوچکے تھے کہ اگر وہ موجودہ بحران پر قابو پانا چاہتے ہیں تو اس کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ جس معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں اسے نافذ کیا جائے۔“

سن 2020 کے اوائل میں امریکا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یکم مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی تمام فوج واپس نکال لے گا۔ اس کے بدلے میں طالبان جنگجووں نے افغانستان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

مشاہدین کا الزام ہے کہ طالبان معاہدے کے تحت کیے گئے دیگر وعدوں کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ مثال کے طورپر طالبان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے دیگر دہشت گرد گروپوں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ملک میں تشدد کی سطح بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے۔

نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے جمعرات کو کہا تھا کہ نیٹو کے ممالک اگلے نوٹس تک افغانستان میں اپنا مشن جاری رکھیں گے۔

طالبان اور امریکا کی ڈیل سب کی کامیابی ہے، شاہ محمود قریشی

سنگین نتائج کی دھمکی

طالبان افغانستان میں موجودہ صورت حال کا کوئی سفارتی حل چاہتے ہیں لیکن انہوں نے معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا”خدا نخواستہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو افغانستان کے عوام اپنا دفاع خود کریں گے جیسا کہ انہوں نے پچھلے بیس برسوں کے دوران کیا ہے۔"

طالبان کے ترجمان نے تاہم کہا کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ مئی میں ہی ہوگا، اگر اس وقت تک بھی بین الاقوامی افواج ملک میں رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا ”اگر سفارتی راستہ بند ہوجاتا ہے تو جنگ کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ کار نہیں رہ جائے گا۔"

افغان مذاکرات پچھلے کئی ہفتوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ مجاہد نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے گروپ کے مابین جاری صلاح و مشورہ کا سلسلہ چل رہا ہے۔

انہوں نے کہا”ہم مذاکرات سے الگ نہیں ہوئے ہیں اور ہم مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔"

 ج ا/ ص ز (ڈی پی اے)

افغانستان میں طالبان کی قیادت میں زندگی کیسی ؟

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں