1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صحافت اور سیاست میں تفریق لازم ہے!

5 نومبر 2019

پاکستان کے ’لیری کِنگ‘ سمجھے جانے والے معتبر صحافی حامد میر کی طرف سے مولانا فضل الرحمان کے جلسے میں شرکت سے پاکستان میں ایک مرتبہ پھر صحافت اور سیاست کے ملاپ کی بحث شروع ہو چکی ہے۔

https://p.dw.com/p/3SUX4
Pakistan | Journalist  Hamid Mir (JUI (f) Media Cell)
تصویر: JUI (f) Media Cell

حامد میر کے لباس کا رنگ بھی تقریباﹰ ویسا ہی تھا، جو مولانا کے حفاظتی دستوں کا، لیکن یہ محض ایک اتفاق بھی ہو سکتا ہے۔ برسر اقتدار حلقے اور وزیر اعظم عمران خان کے حامی حامد میر کی اس جلسے میں شرکت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن مولانا کے حامی یہ جواب دے رہے ہیں کہ ناقدین کو یہ سب کچھ اُس وقت یاد کیوں نہیں آیا تھا، جب متعدد صحافی عمران خان صاحب کے دھرنے میں شرکت اور تقریریں کرتے تھے۔

حامد میر صاحب نے تو دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک پارٹی کا صرف اسٹیج شیئر کیا ہے لیکن کئی دیگر صحافی تو باقاعدہ سیاسی پارٹیوں سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک صحافی ایک جیالا ہوتا ہے؟ کیا ایک صحافی پی ٹی آئی کا ٹائیگر ہونا چاہیے، کیا ایک صحافی یا تجزیہ کار کو تخت لاہور کا قصیدہ گو ہونا چاہیے، کیا ایک صحافی کو فوج کا ترجمان ہونا چاہیے؟ تو جواب یہ ہے کہ نہیں ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے۔ ایک صحافی کو ایک صحافی ہی رہنا چاہیے۔ صحافت اور سیاست میں فرق قائم رکھنا اتنا ہی ضروری ہے، جتنا ایک صحافی اور ایک سیاستدان میں فرق رکھنا لازمی ہے۔

سیاستدان اور فوج اکثریت کی حمایت کی تلاش میں ہوتے ہیں لیکن ایک صحافی سچ کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اگر ایک سیاستدان یا ادارہ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کر رہا ہے تو ایک غیر جانبدار تجزیہ کار کا کام اس سچ اور جھوٹ کو علیحدہ علیحدہ کر کے عوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے۔ اندرونی معلومات کے حصول کے لیے ہر صحافی سیاستدانوں یا پھر مقتدر حلقوں کی قربت چاہتا ہے لیکن دوسری جانب قارئین اور عوام کے سامنے ایک صحافی کی غیر جانبداری ہی اس کا سب سے بڑا اور اصلی سرمایہ ہوتی ہے۔

Imtiaz Ahmad, DW Urdu Redaktion
امتیاز احمدتصویر: DW

لیکن اسے شاید پاکستانی صحافت کی بدقسمتی کہہ لیجیے کہ یہاں پر غیرجانبداری جیسا سرمایہ کچرے کا ڈبہ خیال کیا جاتا ہے۔ ٹاک شو دیکھتے ہی واضح ہونے لگتا ہے کہ فوج یا کسی پارٹی کا موقف پیش کیا جا رہا ہے اور سچ کہیں درمیان میں ہی دب کر رہ گیا ہے۔ اسے اپنی بقا یا پھر شہرت کی جنگ کہیے کہ پاکستان کے نامور صحافی ''دا بڈی (دوست)، پارٹی ممبر، ذاتی، کمفرٹ ایبل اور دا ہنٹر‘‘ جرنلسٹ بن چکے ہیں۔

دا بڈی صحافی

بڈی (دوست) صحافی وہ ہوتے ہیں، جو سیاستدانوں کے دوست بن جاتے ہیں۔ یہ صحافی اپنے دوست سیاستدانوں کے خلاف ثبوتوں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے ان کی حمایت جاری رکھتے ہیں۔ ایسے صحافی اُسی وقت اپنے دوست سیاستدانوں سے فاصلہ اختیار کرتے ہیں، جب انہیں پتا چل جائے کہ ثبوت عوام کے سامنے آ جائیں گے اور عوامی رد عمل بھی سامنے آئے گا۔ لیکن ایسے صحافی ہر اس مشکل گھڑی میں اپنے سیاستدان دوستوں یا پھر اداروں کی مدد کو تیار ہوتے ہیں، جب انہیں ضرورت ہوتی ہے اور ان کو یقین ہو کہ انہیں بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔ سب سے آسان بڈی صحافیوں کو 'مینی پیولیٹ‘ (دماغ سازی) کرنا ہوتا ہے کیوں کہ یہ اپنے دوست سیاستدانوں پر یا پھر 'فوج کے خفیہ ذرائع‘ پر اندھا اعتبار کرتے ہیں۔

ہنٹر صحافی

پاکستان میں ہنٹر صحافیوں کی بھی کمی نہیں۔ ایسے صحافی اپنے مخصوص ذاتی مقاصد کے لیے سیاستدانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اگر کوئی سیاستدان سچ بھی بولے تو یہ اسے جھوٹ بنا کر ہی پیش کرتے ہیں۔ ایسے صحافیوں کے پاس کثیرالنظری، غیرجانبداری اور مقصدیت تینوں چیزوں کا فقدان ہوتا ہے۔ کیا یہ صحافی عوام کی بہتری چاہتے ہیں، اس پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا ہے؟

ذاتی صحافی

ایسے صحافی سیاستدانوں کی نظر میں ان کے اپنے صحافی ہوتے ہیں۔ ایسے صحافی بغیر کسی چوں چرا کے وہ مواد شائع کر دیتے ہیں، جو انہیں سیاستدان دوست مہیا کرتے ہیں۔ ایسے صحافیوں کی اہمیت سیاستدانوں کی اپنی پبلک ریلیشنز ٹیم سے تھوڑی زیادہ ہوتی ہے لیکن یہ کام وہی کرتے ہیں۔

پارٹی ممبر صحافی

پارٹی ممبر صحافی کسی بھی سیاسی جماعت سے اپنی وابستگی چھپانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن ان کے دلائل، اسٹوری چوائس، بولنے کے انداز اور مخصوص پارٹی سے متعلق تنقیدی سوالات کرنے کی صلاحیت سے پتا چلتا ہے کہ ان کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہیں؟ ایسے صحافی کسی کے حق میں اپنے دلائل کو پالش کرنے میں کافی وقت لگاتے ہیں تاکہ اسٹوری چوائس پر عقلی دلائل دیے جا سکیں۔

'کمفرٹ ایبل‘ صحافی

ایسے صحافی 'میں تمہارا ساتھ دوں گا، تم میرا ساتھ دو‘ کی پالیسی اپناتے ہیں۔ ان کا موٹو ہوتا ہے کہ اگر ہم دونوں کو فائدہ ہو رہا ہے، تو لڑنے کی ضرورت کیا ہے؟ ایسے صحافی بس اپنی زندگی آسان چاہتے ہیں، جہاں سے کھانے کی دعوت آئے، اسی پارٹی میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے صحافی سب سے بنا کر رکھنے کے اصول پر قائم رہتے ہیں، ہر ایک کے لیے 'کمفرٹ ایبل‘ ثابت ہوتے ہیں۔

پروفیشنل صحافی

پروفیشنل صحافی کسی سیاسی جماعت کا ہمدرد نہیں بنتا، اس کی ایمانداری کو خریدا نہیں جا سکتا، حقائق عوام تک پہنچانا چاہتا ہے، سچ کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اپنی رائے، رپورٹوں اور آرٹیکلز کو منصفانہ اور غیر جانبدارانہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر رائے اور زاویے کو سامنے لاتا ہے، چاہے خود اسے یہ رائے نا پسند ہی کیوں نہ ہو۔ کسی کو مقدس گائے نہیں سمجھتا۔ اگر سچا صحافی ہے، تو سچ ہی تلاش کرے گا۔

لیکن پاکستان میں معاملہ بہت ہی مختلف ہے۔ صحافی ڈنکے کی چوٹ پر سیاسی جماعتوں کا ساتھ دینے کے دعوے کرتے ہیں، وہ سرعام سیاسی جماعتوں کے ترجمانوں کا کام کرتے ہیں لیکن خود کو 'غیرجانبدار صحافی یا تجزیہ کار‘ بھی کہتے ہیں۔ کیا ایسا کرنے سے کوئی نقصان بھی ہوتا ہے؟ تو جواب ہے، بالکل ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی حمایت کرنے سے نامور صحافیوں کی اپنی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے، صحافت کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ بطور صحافی ایک صحافی دیانتداری سے کام لے۔ عوام کو حتی الامکان سچ پر مبنی اطلاعات فراہم کرے۔ آپ تجزیے کرتے وقت بھی جہاں تک ممکن ہو سکے، غیر جانبدار رہتے ہوئے ہی تجزیے کریں۔ لیکن ایسا اب نہیں رہا۔ پاکستانی میڈیا پر تجزیے اور کالم صحافیوں کے نہیں بلکہ سیاسی کارکنوں، بڈی، پارٹی ممبر اور ہنٹر صحافیوں کے تجزیے محسوس ہوتے ہیں۔

عوام میں ایک غیرجانبدار صحافی یا تجزیہ کار کا تاثر قائم رکھنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لیے شاید ایک صحافی کو اپنے ذاتی مفادات کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے اور پاکستان میں شاید اب صحافیوں کے لیے ذاتی مفادات اور ذاتی نظریات کی قربانی دینا ایک مشکل کام بن چکا ہے۔

دوسرے لفظوں میں سیاسی وابستگیاں آپ کے کام کو کھا جاتی ہیں، آپ کے علمی قد کو چھوٹا کر دیتی ہیں، عوام کا ایک مخصوص طبقہ تو آپ کی عزت کرتا ہے لیکن دیگر معاشرتی طبقات میں آپ قابل اعتماد نہیں رہتے۔ آپ اپنے ساتھ زیادتی کر رہے ہوتے ہیں، صحافت جیسے پیشے کے ساتھ زیادتی بھی ہوتی ہے اور یہ عمل آپ کے اپنے مداحوں کے ساتھ بھی زیادتی ہی کے زمرے میں آتا ہے۔