1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

صاف پانی سے محروم انسانوں کیلئے ایک ’ٹی بیگ‘

18 نومبر 2010

دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ انسانوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ جنوبی افریقہ کی اسٹیلن بوش یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اب ایک ایسا واٹر فلٹر بنایا ہے، جو بے شمار انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچا سکتا ہے۔

https://p.dw.com/p/QCWW
’ٹی بیگ‘ سے صاف پانی کا حصولتصویر: Jacques Botha/University of Stellenbosch

صاف پانی کی قلت ایسی متعدد بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جن سے عام طور پر آسانی سے بچا جا سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ میں تیار کیا جانے والا ’واٹر فِلٹر‘ دیکھنے میں ایک ’ٹی بیگ‘ یعنی اُس تھیلی جیسا ہے، جس میں چائے کی پتی ہوتی ہے۔

اِس فلٹر کی صنعتی پیمانے پر تیاری سے پہلے اسٹیلن بوش یونیورسٹی کی مائیکرو بائیالوجسٹ میئرلیز بوتھا آخری ٹیسٹ شروع کر رہی ہیں۔ وہ پلاسٹک کی بوتل میں موجود نصف لیٹر پانی کو ایک چھوٹے سے ٹی بیگ کے فلٹر میں سے گزارتی ہیں۔ بعد میں پانی کے نمونے کو جانچا جاتا ہے۔ یہ فلٹر اِسی یونیورسٹی کی مشکل سے تیس مربع میٹر سائز کی لیباریٹری میں تیار کیا گیا ہے۔

Wasseraufbereitung mit einem Teebeutel
جنوبی افریقہ کے پروفیسر یوجین کلوئٹے ’ٹی بیگ‘ کی مدد سے تجربات کرتے ہوئےتصویر: Jacques Botha/University of Stellenbosch

میئرلیز بوتھا بتاتی ہیں:’’یہ فلٹر ایک سستا حل ہے، بوتلوں میں ملنے والے پانی یا پھر بازار میں موجود کسی بھی دوسرے فلٹر سے کہیں سستا۔ اِس کا استعمال بھی آسان ہے اور اِسے دُنیا کے دور دراز کے علاقوں میں تقسیم کرنا بھی آسان ہو گا۔ پھر یہ بھی ہے کہ یہ فلٹر محض آلودہ پانی میں سے بیکٹیریا الگ نہیں کرتا بلکہ یہ جراثیموں کو بتدریج ختم کرتا چلا جاتا ہے۔ اِس طریقے سے یہ جراثیم دوبارہ ماحول میں واپَس نہیں آتے۔‘‘

متعدد امدادی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ نے بھی اِس فلٹر میں زبردست دلچسپی ظاہر کی ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے۔ صرف افریقہ ہی میں تقریباً 300 ملین انسان صاف پانی کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پروفیسر یوجین کلوئٹے اور اُن کی ٹیم کو ایسا فلٹر بنانے کا خیال محض اتفاقاً آیا۔ پروفیسر کلوئٹے بتاتے ہیں:’’شروع میں ہم نے اِس رُخ پر تحقیق ہی نہیں کی۔ ہم در اصل صنعتی تنصیبات کے لئے ایک فلٹر بنانا چاہ رہے تھے۔ لیباریٹری میں اِس طرح کی چیزیں چھوٹے سائز ہی میں تیار کی جاتی ہیں۔ مَیں نے پانی کی تھوڑی سی مقدار کے ساتھ حاصل ہونے والی کامیابی کو دیکھا اور تب مَیں نے ایک چھوٹے فلٹر کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔‘‘

Wasseraufbereitung mit einem Teebeutel
جنوبی افریقہ کی اسٹیلن بوش یونیورسٹی میں ’ٹی بیگ‘ جیسے واٹر فلٹر پر ہونے والے تجربات کا ایک اور منظرتصویر: Jacques Botha/University of Stellenbosch

یوں اِس ٹیم کو ’ٹی بیگ‘ استعمال کرنے کا خیال آیا۔ چائے کی جگہ اِس تھیلی میں افزودہ کاربن بھر دیا گیا، جو پانی سے ضرر رساں مادے الگ کرتا ہے۔ فلٹر کے کاغذ پر نینو سائز کے ریشوں والے جراثیم کُش مادے لگا دئے جاتے ہیں۔ اِس طرح ایک بار استعمال میں آنے والا اور تقریباً ہر طرح کی پلاسٹک بوتلوں پر نصب ہو جانے والا یہ فلٹر بیکٹیریاز کو الگ ہی نہیں کرتا بلکہ اُنہیں مار بھی ڈالتا ہے۔

جنوبی افریقہ کے یہ سائنسدان آج کل اِس فلٹر پر آخری تجربات میں مصروف ہیں۔ امدادی تنظیمیں آئندہ سال کے اوائل ہی سے یہ فلٹر ضرورت مندوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیں گی۔ سائنسدان بہت پُر امید ہیں کہ نینو ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے وہ اِن فلٹرز کے ذریعے آلودہ پانی پینے پر مجبور کروڑوں انسانوں کی مدد کر سکیں گے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: کشور مصطفیٰ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں