1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سابق افغان وزیر کی جرمنی میں پیزا ڈیلیوری کی ملازمت

28 اگست 2021

سید احمد شاہ سادات افغانستان کے وزیر مواصلات تھے لیکن پھر یہ ملک چھوڑ کر جرمنی آ گئے۔ گزشتہ کئی ماہ سے وہ کھانے کی ڈلیوری کا کام کر رہے تھے۔ وہ اس مقام تک کیسے پہنچے؟ ان کی یہ کہانی چند روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

https://p.dw.com/p/3zWrZ
تصویر: Hanibal Hanschke/REUTERS

سید احمد شاہ سادات افغانستان میں وزیر مواصلات تھے۔ دو برس پہلے وہ جرمنی پہنچے اور گزشتہ چار ماہ سے وہ جرمن شہر لائپزگ میں گھروں میں کھانا فراہم کرنے والی کمپنی 'لیفرانڈو‘ میں ملازمت  کر رہے تھے۔ ان کے کیرئیر کے عروج زوال کی یہ کہانی نہ صرف جرمنی بلکہ دیگر ملکوں میں بھی وائرل ہوئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی زندگی میں ملازمت کے نئے مواقع بھی آ گئے ہیں۔ 

اس حوالے سے ایک رپورٹ مقامی اخبار ''لائپزگر فولکس سائٹنگ‘‘ میں شائع ہوئی اور اس کے بعد متعدد دیگر کمپنیوں نے نئی ملازمت کے حوالے سے ان سے رابطہ کیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ افغانستان کے یہ سابق وزیر مواصلات جلد ہی کھانا ڈیلیوری کی ملازمت ترک کر دیں گے۔

'میں بدعنوان سیاستدان نہیں تھا‘

لائپزگ کے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ''مجھ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ تم وزیر تھے، تم نے کیوں یہ فوڈ ڈیلیوری کی ملازمت شروع لیکن کئی لوگ مجھ پر فخر بھی کر رہے ہیں کہ یہ ملازمت اس بات کا ثبوت ہے کہ میں بدعنوان سیاستدان نہیں تھا۔‘‘

احمد شاہ سادات کی جرمن صحافی سے اچانک ملاقات

احمد شاہ سادات کی اچانک ایک دن مقامی صحافی یوزا مانیا شلیگل سے ملاقات ہوئی۔ احمد شاہ سادات نے انہیں بتایا کہ وہ افغانستان کے وزیر تھے اور یہ بات سن کر یوزا مانیا حیران رہ گئے۔ احمد شاہ سادات کا اس جرمن صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ''میں اب ایک سادہ زندگی گزار رہا ہوں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''میں خود کو جرمنی میں زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہوں۔ نہ تو یہاں کی پولیس بدعنوان ہے اور نہ ہی سیاستدان ایسے ہیں۔‘‘

 قبل ازیں احمد شاہ سادات نے اپنی فیس بک پر لکھا تھا، ''ماسٹر کی دو ڈگریوں، بیچلر ڈگری اور بیس سالہ تجربے کے باوجود میں اپنے شعبے میں ملازمت حاصل نہیں کر سکا کیوں کہ مجھے جرمن زبان نہیں آتی۔ انسان کو خدا نے کام اور عبادت کے لیے تخلیق کیا ہے، تو ہمیں زندگی کو آگے چلانے کے لیے کام کرنا پڑتا ہے۔‘‘

میں خود کو جرمنی میں زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہوں
میں خود کو جرمنی میں زیادہ محفوظ محسوس کرتا ہوں، احمد شاہ ساداتتصویر: Hanibal Hanschke/REUTERS

احمد شاہ سادات کا مزید کہنا تھا، ''میں اللہ کا شکرگزار ہوں اور مجھے اپنے کام پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور نہ ہی میں احساس کمتری محسوس کر رہا ہوں۔‘‘

''لائپزگر فولکس سائٹنگ کے مطابق احمد شاہ سادات کو ایک ترک تعمیراتی کمپنی نے بھی ملازمت فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے، جو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ اس وقت لیفرانڈو کمپنی میں ہی 'کمیونیکیشن جاب‘ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ تاہم وہ سائیکل پر سوار ہو کر گھروں میں کھانا فراہم کرنے کی ملازمت یقینی طور پر چھوڑنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر کمپنیوں نے بھی ملازمت کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔