1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سائنس ٹِٹ بِٹس

16 اکتوبر 2008

سائنس اور معلُومات کی دنیا سے دلچسپ معلومات مگر مختصر مختصر

https://p.dw.com/p/FbJc
خلاء میں موجود ہبل دوربین، جس نے معلُومات فراہم کی کہ یہ کائنات تاتمام ہے۔تصویر: picture alliance/dpa

سائنسدانوں کو اسرائیل کی ساحلی پٹی سے ایک قدیمی انسانی ہڈی دستیاب ہوئی ہے۔ جس پر تجربات کے بعد معلُوم ہوا کہ یہ نو ہزار سال پرانی ہے۔ اِس ہڈی میں ٹی بی کے مرض کی موجودگی کا بھی پتہ چلا ہے جس سے بیماری کے تین ہازر سال پرانے ہونے کے تصور کی نفی ہو گئی ہے۔

22.07.2007 Projekt Zukunft Malaria_04
ملیریا بخار پھیلانے والا مچھرتصویر: DW-TV

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں موجود ہبل دور بین کو ٹھیک کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ یہ دور بین ستائیس ستمبر سے خراب ہے۔ ناسا نے یہ دوربین کی سروس یا مرمت کے کام کو گزشتہ ماہ تکنیکی خربی کے باعث مؤخر کردیا تھا۔

Polio Impfung bei äthiopischem Kind
ایک افریقی ملک میں بچے کو پولیو ویکسین دی جا رہی ہے۔تصویر: AP Photo

امریکی سائنسدان اِس مناسبت سے تحقیق کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر اپنے من پسند موضوعات کو تلاش کرنے سے یاداشت بہتر ہوتی ہے۔ یہ تجربہ وسطی عمر کے انسانوں پر کارگر ثابت ہوا ہے۔

امریکہ کے ویڈیو گیم بنانے والے Richard Garriot نے خلا ئی سیاحت شروع کردی ہے ۔ انٹرنیشنل خلائی سٹیشن پر اُن کا استقبال وہاں موجود خلاباز سرگئی فالکوف نےکیا۔ امریکی Richard Garriot نے اِس سفر کے لئے پینتیس ملیئن ڈالر ادا کئے ہیں۔

World AIDS Day
ایڈز مرض کے بارے میں ایک پوسٹرتصویر: AP

نیو یارک یونی ورسٹی کے ماہرین کی قیادت میں چالیس سائنسدانوں نے ملیریا پھیلانے والے دو اور مچھروں کے ڈی این اے میں مخفی معلُومات حاصل کر لی ہیں۔ ڈی این اے کو ڈی کوڈ کرنے کے عمل سے ملیریا بیماری کی خلاف مناسب مدافعتی ویکسین تیار کرنے میں مدد ملنے کے امکان ہیں۔

عالمی اقتصادی بحران کے اثرات تجربہ گاہوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اِس مناسبت سے موذی مرض ایڈز کی ویکسین کی تیاری میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں نو سو ماہرین ایڈز کی ویکسین میں پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے گزشتہ دنوں جمع ہوئے تھے۔ کئی خیراتی تنظیمیں اپنے خیراتی بجٹ میں کمی کا عندیہ دے چکی ہیں۔

پولیو متعدی بیماری کے خلاف بنائی گئی نئی مدافعتی ویکسین کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ کئی علاقوں میں پولیو وبا کے خاتمے میں بھی یہ کارآمد رہی ہے۔ حال ہی میں یمن میں پولیو وبا کا خاتمہ بھی اِسی حکمت عملی سے کیا گیا۔ ایشیاء اور افریقہ کے کئی ملکوں میں پولیو جراثیم انسانی بستیوں پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔