1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

زبردستی کی شادی سمیت 40 ملین افراد غلامی کا شکار

افسر اعوان روئٹرز
19 ستمبر 2017

دنیا بھر میں گزشتہ برس 40 ملین سے زائد افراد غلامی کی طرح کے حالات سے دوچار رہے۔ یہ بات انسداد غلامی کے لیے کام کرنے والے مختلف گروپوں کی طرف سے تیار کی گئی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہی گئی۔

https://p.dw.com/p/2kHE5
International  Labour Organization (ILO) Headquarters
تصویر: picture-alliance/maxppp/V. Isore

دنیا بھر سے غلامی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے بڑے گروپوں کی تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق غلامی کے چکر میں پھنسے ان افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو جبری مشقت کا شکار ہیں اور جن کی زبردستی شادیاں کی گئیں۔ غلامی کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جا چکا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO)، انسانی حقوق کے گروپ ’واک فری فاؤنڈیشن‘ اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی طرف سے مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2016ء کے دوران مجموعی طور پر 40.3 ملین افراد جدید غلامی کے چکر میں پھنسے ہوئے تھے۔ تاہم ان میں 24.9 ملین افراد جبری مشقت جبکہ  15.4 ملین افراد ایسی شادیوں کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے جو ان کی مرضی کے خلاف ہوئیں۔

اس رپورٹ کے مطابق غلامی کے اس چکر میں پھنسے ہر چار میں سے تین خواتین اور لڑکیاں ہیں جبکہ ہر چار میں سے ایک بچہ۔ سب سے زیادہ غلامی افریقہ میں ہے، اس کے بعد ایشیا اور پھر پیسیفک خطے کا نمبر آتا ہے۔

Indien Kinderarbeit Junge KFZ-Mechanker
سب سے زیادہ غلامی افریقہ میں ہے، اس کے بعد ایشیا اور پھر پیسیفک خطے کا نمبر آتا ہےتصویر: Getty Images/AFP/C. Mao

اس رپورٹ کے مطابق، ’’جبری مشقت کرنے والے مزدور اس خوراک کے کچھ حصے کے پیداواری عمل میں بھی شامل ہیں جو ہم کھاتے ہیں اور ایسے کپڑوں کی تیاری میں بھی جو ہم پہنتے ہیں۔ جبکہ وہ ان عمارات کی صفائی میں بھی شریک رہے ہیں جن میں ہم رہائش پزیر ہیں۔‘‘ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ جرم تقریباﹰ ہر ملک میں موجود ہے۔