1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

دولت مشترکہ ممالک ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس سے پرامید

عاطف بلوچ29 نومبر 2015

دولت مشترکہ کے اجلاس میں رہنماؤں نے ’کلائمیٹ چینج سمٹ‘ کی کامیابی لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس اجلاس کے اعلامیے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1HEIp
USA, klima, kohlekraft, CO2, emissionen
تصویر: ap

دولت مشترکہ میں شامل 53 ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ وہ پیرس میں تیس نومبر سے شروع ہونے والی COP21 نامی اقوام متحدہ کی ’کلائمیٹ چینج سمٹ‘ کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک عالم گیر معاہدہ طے پا سکے۔ مالٹا منعقدہ کامن ویلتھ ممالک کے اس اجلاس میں واضح کیا گیا کہ تمام رکن ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی طاقتوں کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

دولت مشترکہ ممالک میں جی سیون کے رکن ممالک برطانیہ اور کینیڈا کے علاوہ تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت بھارت بھی شامل ہے جب کہ ساتھ ہی مالدیپ جیسے ممالک بھی اس تنظیم کے رکن ہیں، جنہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔ ناقدین کے بقول کامن ویلتھ ممالک پیرس کانفرنس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس تین روز کانفرنس کے اختتام پر رکن ممالک نے اپنی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے ایک معاہدے کو بھی حتمی شکل دی، جو پیرس کانفرنس کی کامیابی کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہو سکتا ہے۔ پیرس میں ’کلائمیٹ چینج سمٹ‘ کی تیاری مکمل ہو چکی ہے جب کہ عالمی رہنما فرانس پہنچنا شروع ہو چکے ہیں۔ اتوار کی شام کو ایک غیر رسمی ملاقات کے ساتھ ہی اس اجلاس کا آغاز ہو جائے گا۔ سرکاری طور پر یہ کانفرنس پیر کے دن شروع ہوگی۔ پیرس حملوں کے بعد اس اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اپنی نوعیت کی اکیس ویں کانفرنس کا آغاز تیس نومبر سے ہو رہا ہے اور یہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے کے بعد گیارہ دسمبر کو اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ اس کانفرنس کے دوران 190 سے زیادہ ممالک کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مناسب اقدامات کے موضوع پر ایک نئے عالم گیر معاہدے کے لیے مذاکرات عمل میں لائے جائیں گے۔

ہفتے کو اختتام پذیر ہونے والے دولت مشترکہ اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے، ’’ہم موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے اثرات پر بہت زیادہ تحفظات رکھتے ہیں۔ ہماری بہت سے چھوٹی رکن ریاستیں ان تبدیلیوں کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔‘‘ دولت مشترکہ اجلاس میں ملکہ الزبتھ ثانی کے علاوہ جہاں دیگر رکن ممالک کے سربراہان مملکت اور ریاست نے شرکت کی، وہیں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف بھی اس اجلاس میں شرکت کے لیے مالٹا گئے۔

Paris Anti Klimawandel Demonstration Place de la Republique
دنیا بھر میں ماحول دوست مظاہرین عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس دنیا کو بچانے کے لیے ڈیل طے کر لیںتصویر: Reuters/PE. Gaillard

دولت مشترکہ کے اجلاس میں رکن ممالک میں پائی جانے والی انتہا پسندی اور بدعنوانی کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انتہا پسندی کا بدترین چہرہ عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسندی ایک ایسا عقیدہ بن چکی ہے، جو تشدد کا سبق دیتا ہے۔

دولت مشترکہ اجلاس کے میزبان ملک مالٹا کے وزیر اعظم جوزف موسکاٹ نے کہا کہ دشت گرد پڑھے لکھے لڑکے اور لڑکیوں سے سب سے زیادہ خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترقی کرتی ہوئی معیشت بھی ان کے لیے ایک مسئلہ ہے۔ کامن ویلتھ ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ 2018ء کے آغاز میں آئندہ کامن ویلتھ سمٹ برطانیہ میں منعقد کی جائے گی۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں