1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

خالد شیخ محمد اور چار ساتھی ملزمان اقبالِ جرم پر آمادہ

امجد علی9 دسمبر 2008

پیر کے روز امریکی حراستی کیمپ گوانتانامو کے پانچ قیدیوں نے، جن میں سے ایک خالد شیخ محمد ہیں، ایک فوجی عدالت میں پیشکش کی کہ وہ گیارہ ستمبر سن 2001ء کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے کے لئے تیار ہیں۔

https://p.dw.com/p/GCWO
چھ مہینے پہلے گوانتانامو میں اپنی پہلی سماعت کے موقع پر ہی 43 سالہ خالد شیخ محمد نے خود کو گیارہ ستمبر سن 2001ء کے دہشت پسندانہ واقعات کا اصل منصوبہ ساز قرار دے دیا تھا۔تصویر: AP

چھ مہینے پہلے گوانتانامو میں اپنی پہلی سماعت کے موقع پر ہی 43 سالہ خالد شیخ محمد نے خود کو گیارہ ستمبر سن 2001ء کے دہشت پسندانہ واقعات کا اصل منصوبہ ساز قرار دے دیا تھا۔ اِس سماعت سے کچھ ہی پہلے اُس کے وکلائے صفائی میں سے ایک نے کہا تھا کہ موجودہ قوانین کے ہوتے ہوئے مقدمے کی منصفانہ کارروائی ممکن نہیں ہے۔

3rd international video journalism award Berlin
خالد شیخ محمد اور اُن کے باقی چاروں ساتھیوں کو خدشہ ہے کہ اوباما کے صدر بننے کے بعد وہ غالباً سزائے موت نہیں پا سکیں گے اور شہادت کا رُتبہ حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔

تاہم اسامہ بن لادن کے سب سے قریبی اور با اثر ترین ساتھیوں میں شمار ہونے والے خالد شیخ محمد نے وکلائے صفائی کے ساتھ شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے مقدمے کے آغاز پر ہی اُنہیں اپنی پیروی کرنے سے منع کر دیا تھا۔ ایسے میں مقدمے کے آغاز ہی سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ خالد شیخ محمد عدالت کی طرف سے قصور وار ثابت ہونا چاہتا ہے اور اُس کی خواہش ہے کہ ذرائع ابلاغ کی بھرپور توجہ میں اُسے سزائے موت بھی گوانتانامو کیمپ میں ہی دے دی جائے، جو بُش دَورِ حکومت میں بے انصافی کی علامت بن چکا ہے۔

خالد شیخ محمد کی درخواست پر خصوصی ٹرائی بیونل نے اُسے اپنے چارساتھی ملزمان کے ساتھ بار بار ملاقات کی سہولت فراہم کی۔ اِن ملاقاتوں کے دوران ان پانچوں ملزمان نے گوانتانامو ملٹری کمیشن کے نام ایک خط تیارکیا، جو چار نومبر کو کمیشن کے حوالے بھی کردیا گیا۔ اِس میں اِن ملزمان نے درخواست کی تھی کہ اُن کا مقدمہ جلد ازجلد سنا جائے تاکہ وہ فوری طور پر اپنے جرم کا اعتراف کر سکیں۔

Guantanamo Gefängnis Eingang Camp Delta
خالد شیخ محمد کی درخواست پر خصوصی ٹرائی بیونل نے اُسے اپنے چارساتھی ملزمان کے ساتھ بار بار ملاقات کی سہولت فراہم کی۔تصویر: AP

پیر کو جب فوجی عدالت کے جج اسٹیون ہینلے نے خالد شیخ محمد سے دریافت کیا کہ کیا وہ اب بھی اپنے اعترافی بیان پر قائم ہے، تو اُس نے فوری طور پر کہا کہ یقیناً۔ اور یہ کہ وہ اور اُن کا گروپ مقدمے کی کارروائی پر مزید اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ملزمان اِسی ہفتے اپنے مقدمے کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ وہ امریکی صدر کے عہدے پر باراک اوباما کی تعیناتی سے پہلے پہلے ایسا چاہتے ہیں کیونکہ اوباما کہہ چکے ہیں کہ صدر بنتے ہی وہ گوانتانامو بند کر دیں گے، خصوصی فوجی عدالت ختم کر دیں گے اورحقوقِ انسانی کے جنیوا کنونشن کا پھر سے اطلاق شروع کر دیں گے۔

USA Guantanamo Gefangerner in Handschellen
امریکہ کی سول لبرٹیز یونین ACLU کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھنی رومیرو نے کہا کہ ہر وہ شخص بری طرح سے غلطی پر ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ مقدمے امریکی نظامِ عدل کی فتح ہیں۔تصویر: AP

خالد شیخ محمد اور اُن کے باقی چاروں ساتھیوں کو خدشہ ہے کہ اوباما کے صدر بننے کے بعد وہ غالباً سزائے موت نہیں پا سکیں گے اور شہادت کا رُتبہ حاصل کرنے سے محروم رہ جائیں گے۔

پیر کو عدالتی کارروائی میں وقفے کے بعد خالد شیخ محمد نے کہا کہ وہ اپنا اعترافِ جرم اُس وقت تک روک کررکھنا یا ملتوی کرنا چاہتے ہیں جب تک کہ تمام پانچوں ملزمان کو مشترکہ طور پر اپنے جرم کے اعتراف کی سہولت نہیں مل جاتی۔ واضح رہے کہ دو ملزمان کی پیروی بدستور وکلائے صفائی کر رہے ہیں کیونکہ عدالت کی نظر میں ابھی اُن کی ذہنی صحت مشکوک ہے۔

BdT Guantanamo Gerichtsprozess
حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کی جینیفرڈیسکل نے ملزمان پر کئے گئے جبر و تشدد کی روشنی میں مقدمے کی کارروائی کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے ہدفِ تنقید بنایا ہے۔تصویر: AP

اِس یار پہلی مرتبہ گیارہ ستمر سن 2001ء کے دہشت پسندانہ واقعات میں مرنے والوں کے کچھ لواحقین کو بھی عدالت سے ملحقہ ایک کمرے میں شیشے کے پیچھے سے مقدمے کی کارروائی دیکھنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ ان لواحقین کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا گیا تھا۔

امریکہ کی سول لبرٹیز یونین ACLU کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھنی رومیرو نے کہا کہ ہر وہ شخص بری طرح سے غلطی پر ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ یہ مقدمے امریکی نظامِ عدل کی فتح ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کی جینیفرڈیسکل نے ملزمان پر کئے گئے جبر و تشدد کی روشنی میں مقدمے کی کارروائی کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ اِس مقدمےکا فیصلہ جلد آنے کی توقع نہیں کی جا رہی ہے۔