1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حوثی باغیوں نے مکے کی جانب میزائل داغا، سعودی اتحاد

عاطف توقیر ڈی پی اے
28 جولائی 2017

سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ یمن سے حوثی شیعہ باغیوں نے مکے کی جانب بیلسٹک میزائل داغا، جسے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان میزائل حملوں کا ہدف سعودی فوجی اڈہ تھا۔

https://p.dw.com/p/2hJQy
Menschenmengen Heilige Moschee mit Kaaba in Mekka
تصویر: Getty Images/AFP/A. Hilabi

سعودی قیادت میں عرب اتحاد کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یمن کے ایران نواز شیعہ حوثی باغیوں نے مقدس شہر مکے کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، جسے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔

مبینہ طور پر مکے کی سمت داغے گئے اس میزائل حملے کی یہ کوشش ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے، جب اگلے ماہ لاکھوں مسلمان حج کی ادائیگی کے لیے یہاں جمع ہو رہے ہیں۔

سعودی اتحاد کے مطابق جمعرات کو مکے کی جانب بڑھنے والے اس میزائل کو شہر سے 69 کلومیٹر دور واقع طائف صوبے میں مار گرایا گیا۔

سعودی اتحاد کے بیان کے مطابق، ’’حوثی باغیوں کی جانب سے مقدس شہر مکہ کی جانب جانے داغا جانے والا یہ میزائل حج کے اجتماع پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہے۔‘‘

Jemen Milizen entfernen Landminen platziert von Houthi-Rebellen
حوثی باغی منصور ہادی کے خلاف برسرپیکار ہیںتصویر: picture-alliance/dpa/STR

حوثی باغیوں نے تاہم کہا ہے کہ ان کی جانب سے طائف میں سعودی فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد میزائل داغے گئے ہیں۔ حوثی باغیوں کے بیان کے مطابق، ’’میزائلوں نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا اور فوجی اڈے کو بھاری نقصان پہنچایا۔‘‘

حوثی باغیوں نے اس بابت زیادہ تفصیلات ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ ان حملوں کا ہدف سعودی فوجی اڈہ تھا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ماضی میں بھی سعودی اتحاد کی جانب سے مکے کی جانب بڑھنے والے میزائلوں کو مار گرانے کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔

یمن سن 2014 سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جہاں ملک کے ایک حصے پر ایران نواز شیعہ حوثی باغی قابض ہیں جب کہ دوسری جانب صدر منصور ہادی کے حامی۔ صنعا پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد سے منصور ہادی کی حکومت جنوبی شہر عدن میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

مارچ 2015 سے سعودی قیادت میں عرب اتحادیوں نے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ سعودی عرب کو خوف ہے کہ یمن پر حوثی باغیوں کے قبضے سے جزیرہ نما عرب میں اس کے حریف ملک ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا۔