1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جی 20 معاشی اصلاحات، چین کی مخالفت

19 فروری 2011

چین نے ہفتے کے روز جی 20 وزارئے خزانہ اجلاس میں عالمی معاشی عدم توازن کے انسداد کے لیے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جس میں چین کے زرمبادلہ کو انڈیکیٹر کے طور پر استعمال کرنے کا کہا گیا تھا۔

https://p.dw.com/p/10KUo
تصویر: AP

پیرس میں جاری دنیا کی 20 اہم معاشی طاقتوں کے وزائے خزانہ کے اس اجلاس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو عالمی معاشی تنوع کی جانچ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ تاہم چین اور برازیل کی طرف سے اس تجویز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ اس اجلاس میں جی 20 ممالک کے وزائے خزانہ کے علاوہ مرکزی بینکوں کے سربراہان بھی شریک ہیں۔

Flash-Galerie G20 Treffen Paris 2011
اب تک مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہےتصویر: AP

اجلاس میں وہ متفقہ اصلاحات طے کی جانی ہیں، جن کے ذریعے مستقبل میں کسی عالمی اقتصادی بحران سے پیشگی بچا جا سکے تاہم تمام رات جاری رہنے والے ان مذاکرات میں اب تک کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے نہیں آ پایا ہے۔

اطالوی وزیرخزانہ Giulio Tremonti کے مطابق بعض ممالک مشترکہ اعلامیے میں زرمبادلہ کے ذخائر کے الفاظ کے استعمال کی مخالفت کر رہے ہیں،’چین اور برازیل کی طرف سے پائیدار ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے تجویز کی مخالفت کی جا رہی ہے۔‘ بعض ممالک عالمی اقتصادیات کے حوالے سے تجویز کردہ اشاروں کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت سامنے نہیں آ رہی ہے۔‘

جی 20 اجلاس میں شریک ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اختلاف کے باوجود وزراء اس تگ و دو میں ہیں کہ مذاکرات کو ناکامی سے بچا لیا جائے اور کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے۔

چین کی طرف سے مغربی دنیا کے اس مطالبے کے خلاف مزاحمت کی جا رہی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ چین اپنی کرنسی کی قدر کا ازسرنو جائزہ لے تاکہ عالمی اقتصادیات میں عدم توازن کے حل میں مدد ملے۔ واضح رہے کہ رواں ہفتے چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت جاپان کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

G20 Treffen Paris 2011
اس اجلاس میں شریک عالمی رہنماتصویر: AP

دوسری جانب جرمن وزیرخزانہ وولفگانگ شوائبلے نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چین کے سخت موقف کے باوجود مذاکرات ناکام نہیں ہوں گے،’میرا خیال ہے کہ ہم آج کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔ اس معاہدے میں یہ طے کر لیا جائے گا کہ عالمی اقتصادیات میں عدم توازن کو روکنے کے لیے کن عوامل کو بطور علامت استعمال کیا جائے تاکہ عالمی معاشی نظام میں استحکام پیدا ہو۔‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں