1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنسی زیادتی کے واقعات: ’ویٹیکن نے کبھی پردہ نہیں ڈالا‘

26 مارچ 2010

امريکی روزنامے نيويارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ ميں لکھا ہے کہ پوپ بينيڈکٹ شانزدھم جب امريکی رياست ملواکی ميں کارڈينل تھے، تواُنہيں بچوں کے جنسی استحصال کے بارے میں مطلع کيا گيا تھا ليکن انہوں نے کوئی کارروائی نہيں کی تھی

https://p.dw.com/p/MfFy
تصویر: AP

يہ شبہ ظاہر کيا جارہا ہے کہ اگرچہ پوپ اب کيتھولک چرچ کے اداروں ميں ہر قسم کی جنسی زيادتيوں کو مکمل طور پر ناقابل برداشت قرار دے رہے ہيں، ليکن وہ برسوں تک اس سلسلےميں موصول ہونے والی شکايات پر کسی بھی کارروائی ميں ناکام رہے۔

امريکہ ميں جنسی زيادتيوں کے متاثرين کی ايک امدادی تنظيم کے پيٹر آئلی نے کئی برس قبل ملواکی کے پادری لارنس مرفی کی بچوں کے ساتھ جنسی زيادتيوں کے بارے ميں کہا: ’’يہ امريکہ کی کليسائی تاريخ ميں جنسی زيادتی کے بد ترين واقعات ميں سے ايک ہے۔‘‘

سن 1998 ميں وفات پانے والے لارنس مرفی پر تقريباً 200 لڑکوں کے ساتھ جنسی زيادتيوں کا الزام ہے۔ جنسی زيادتيوں کے يہ واقعات سن 1950 سے سن 1974 کے درميان پيش آئے تھے جب مرفی، امريکی رياست وسکونسن ميں سماعت سے محروم بچوں کے اسکول ميں استاد تھے۔ جنسی زيادتيوں کے الزامات کے بعد مرفی کا تبادلہ دوسری جگہوں پر کرديا گيا ليکن وہاں بھی انہيں دوبارہ بچوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ديا گيا۔ مرفی کی زيادتيوں کا شکار ہونے والے، آج 62 سالہ آرتھر برجنسکی نے ميڈيا کو بتايا کہ پادری مرفی نے ان پر چھ مختلف جگہوں پر زيادتی کی، موجودہ پوپ اور اُس زمانے ميں ملواکی ميں کارڈينل جوزف راٹسنگر کو اس کا علم تھا کيونکہ وہ چرچ ميں جنسی استحصال کے نگران ادارے کے سربراہ تھے، اور اس لئے اُن کا احتساب کيا جانا چاہئے۔

Papst im Gespräch mit Robert Zollitsch tief betroffen über Missbrauchsskandal
جرمن کیتھولک کلیسا کے سربراہ Robert Zollitsch پوپ سے ملاقات کے دورانتصویر: picture alliance/dpa

اخبار نيويارک ٹائمز کے مطابق ويٹيکن کی اندرونی دستاويزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ايک آرچ بشپ نے سن 1996 ہی ميں چرچ کے اخلاقی کردار کی نگرانی کرنے والے ادارے کو ايک مراسلہ لکھا تھا جس ميں فادر مرفی کی حرکات کی شکايت کی گئی تھی۔ اُس وقت کے کارڈينل جوزف راٹسنگر اس ويٹيکن ادارے کے سربراہ تھے۔ يوں،انہيں فادر مرفی کی حرکات سے براہ راست مطلع کيا گيا تھا ليکن آرچ بشپ کو اپنے اس مراسلے کا کوئی جواب نہيں ملا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مرفی کا کيس، کليسا کی چارديواری ميں ہونے والی جنسی زيادتيوں کا وہ واحد کيس نہيں جن کی اطلاع روم کی مذہبی کونسل کو دی گئی تھی۔

يہ، پوپ بينيڈکٹ پر بہت سخت الزامات ہيں جنہوں نے سن 2008 ميں اپنے دورہء امريکہ ميں امريکی چرچ ميں جنسی زيادتيوں کے اسکينڈل پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: ’’

ميرے پاس ان زيادتيوں کے نتيجے ميں پہنچنے والے رنج وغم اور تکليف کو بيان کرنے کے لئے الفاظ نہيں ہيں۔‘‘

اخبار نيويارک ٹائمز نے وٹيکن کو وہ دستاويزات پيش کر دی ہيں جس کی بنياد پر رپورٹ مرتب کی گئی ہے۔ تاہم ويٹيکن کے ترجمان لومبارڈی نے اس کی ترديد کی کہ ويٹيکن اور اُس زمانے کے کارڈينل اور آج کے پوپ، ان واقعات پر پردہ ڈالنا چاہتے تھے۔

سبينے : ميولر، واشنگٹن / ترجمہ : شہاب احمد صديقی

ادارت : کشور مصطفیٰ