1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جنرل اسمبلی کا اجلاس، نگاہیں ٹرمپ کے خطاب پر جمی ہوئیں

عابد حسین
15 ستمبر 2017

جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس منگل انیس ستمبر سے شروع ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے پہلے دن تقریر کریں گے۔ اس اجلاس میں سوا سو سے زائد ملکوں کے لیڈران شریک ہو رہے ہیں۔

https://p.dw.com/p/2k1vv
USA UN-Generalversammlung in New York
تصویر: picture alliance/dpa/D. Kalker

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انیس ستمبر سے شروع ہونے والے سالانہ اجلاس میں 129 مختلف ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت متنازعہ مگر اہم عالمی امور پر اظہارِ خیال کریں گے۔ سفارت کاروں نے اس اجلاس میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ یمنی تنازعہ، شام میں قیام امن کی صورت حال، روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری میانمار حکومت کا کریک ڈاؤن، افغانستان اور جنوبی سوڈان میں پیدا شدہ مسلح تنازعات بھی زیر بحث لائے جا سکتے ہیں۔

راکھین میں صورتحال کو قابو میں لایا جائے، عالمی سلامتی کونسل

روہنگیا بحران: ’نسل کشی کی کتابی مثال‘ ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا غزہ کا پہلا دورہ

اقوام متحدہ کے پرچم تلے جنسی زیادتیاں، خصوصی اہلکار تعینات

انیس ستمبر کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ منصبِ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر کے خطاب کو خاص توجہ حاصل رہے گی کیونکہ اُن کی ’امریکا سب پہلے‘ کی پالیسی پر دوستوں اور مخالفین کی بیان بازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ امریکا کی ہال یونیورسٹی کے تجزیہ کار مارٹن ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر عوامی رائے کے تناظر میں ٹرمپ کے خطاب کو بظاہر بہت زیادہ اہمیت حاصل ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

UN Hauptquartier in New York
امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کا صدردفترتصویر: picture-alliance

یہ بھی اہم ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ایک روز قبل پیر اٹھارہ ستمبر کو امریکی صدر ٹرمپ ایک سو سے زائد غیر ملمکی لیڈران کے اعزاز میں استقبالیہ دیں گے اور متعدد سے مصافحہ بھی کریں گے۔ اکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے۔

جنرل اسمبلی کے اجلاس کے پہلے دن فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے ملک کی پہلی مرتبہ نمائندگی کریں گے۔ امکاناً وہ مثبت عالمی تعاون کو فروغ دے کر تنازعات کو حل کرنے کی تجویز دے سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان ڈے کی تقریب

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے نو ماہ قبل عالمی ادارے کے سربراہ کا منصب سنبھالا تھا لہذا اُن کے دور کا بھی یہ پہلا اجلاس ہے۔

اسی اجلاس میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ ری یونگ ہو اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے جوہری ہتھیار سازی اور بیلسٹک میزائل تجربات کی ملکی پالیسی کو دفاع کرنے کی کوشش کریں گے۔ شمالی کوریائی وزیر خارجہ کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کو جاپان، جنوبی کوریا اور امریکا کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنائے جانے کا قوی امکان ہے۔ روس اور چین نے شمالی کوریا پر مزید سخت پابندیوں پر اپنے اپنے تحفظات ظاہر کرنے کے بعد اب پابندیوں کی قرارداد کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔