1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی مسلسل کم ہوتی ہوئی

جاوید اختر، نئی دہلی
22 اپریل 2019

ایک ارب تیس کروڑ آبادی والے ملک بھارت میں2011ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 14.5 فیصد سے زیادہ ہے جبکہ پارلیمان میں ان کی تعداد محض 3.5 فیصد ہے۔

https://p.dw.com/p/3HDJ1
Indien Westbengalen Wahlen in Kalkutta
تصویر: Reuters/R. De Chowdhuri

عام انتخابات کے اس موسم میں یوں تو ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت تمام اہم سیاسی جماعتیں پارلیمان میں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں تاہم کوئی بھی جماعت، حتٰی کہ مسلمانوں کے ووٹوں پر انحصار کرنے والی علاقائی جماعتیں بھی، پارلیمان میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ کرنے کے تئیں مخلص دکھائی نہیں دیتی ہیں۔

آبادی 14.5 فیصد، نمائندگی محض 3.5 فیصد

مذکورہ بالا وجوہات کے باعث حالیہ برسوں میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں مسلسل گراوٹ آئی ہے۔ 543 رکنی پارلیمان کے ایوان زیریں(لوک سبھا) میں اس وقت مسلم قانون سازوں کی تعداد محض 22 یعنی ساڑھے تین فیصد ہے۔ حالانکہ 1980ء میں مسلم ارکان پارلیمان کی تعداد 10 فیصد تھی تاہم بعد میں اس میں گراوٹ آتی گئی اور 1984ء سے 2009ءکے درمیان ان کی تعداد آٹھ سے چھ فیصد کے درمیان ہوگئی۔
اس صورت حال کے حوالے سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے صدر شعبہ سیاسیات ڈاکٹر پروفیسر افروز عالم نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں گہری تشویش کا اظہار کیا: ’’مسلمانوں کی کم ہوتی سیاسی نمائندگی بھارتی جمہوریت کے لیے بھی نہایت قابل تشویش ہے۔ اس چیلنج کاسامنا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو فی الحال دو نکاتی لائحہ عمل پر کام کرنا ہوگا ۔ پہلا یہ کہ انہیں رائے دہندگان سے جوڑنے کا کوئی ایسا طریقہ تلاش کرنا ہوگا جس میں تمام شہریوں کے مفادات کی نمائندگی کی جاسکے اور دوسرا یہ کہ بالخصوص ملک کے 14.5 فیصد مسلم آبادی کے اندر شمولیت کا جمہوری احساس جا گزیں کرنا ہوگا۔ اگر ان چیلنجز کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس بات کا بہت زیادہ خدشہ ہے کہ بھارت کے اقلیتی شہری بے معنی ہوکر رہ جائیں بلکہ ملک کے سیاسی نقشے سے ہی غائب ہوجائیں۔‘‘

Indien EVM Elektronische Wahlautomaten
مین اسٹریم کی سیاسی جماعتیں بہت کم مسلمانوں کو اپنا امیدوار بناتی ہیں اور اس کے لیے کئی طرح کے دلائل پیش کرتی ہیں۔تصویر: picture-alliance/AP Photo/A. Solanki

مرکزی ہی نہیں ریاستی سطح پر بھی نمائندگی میں مسلسل کمی
ڈاکٹر افروز عالم کا مزید کہنا تھا کہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں گراوٹ صرف قومی سطح یعنی پارلیمان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صوبائی اسمبلیوں میں بھی گراوٹ کا یہ رجحان دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’مہاراشٹر، ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور دہلی کی مجموعی طور پر 968 اسمبلی نشستوں کے لیے 2013ء سے 2015ء کے درمیان ہوئے انتخابات کے جائزہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی نمائندگی  35 فیصد سے گھٹ کر محض 20 فیصد رہ گئی ہے۔ 2018ء میں صوبائی اسمبلیوں کے لیے ہوئے انتخابات میں چھتیس گڑھ میں صرف ایک مسلمان، مدھیہ پردیش میں دو،  راجستھان اور تلنگانہ میں آٹھ آٹھ مسلمان منتخب ہوئے۔ اتر پردیش اسمبلی میں 2012ء میں مسلمانوں کی نمائندگی 17 فیصد تھی جو2017ء میں گھٹ کر صرف چھ فیصد رہ گئی۔ 20 فیصد مسلم آبادی والے اترپردیش میں 2014ء کے عام انتخابات میں ایک بھی مسلمان امیدوار منتخب نہیں ہوسکا۔‘‘

مسلمانوں کو امیدوار بنانے سے احتراز
حکومتی اعدادو شمار کے مطابق بھارت کے مجموعی طور پر 675 اضلاع میں سے 90 میں مسلمانوں کی آبادی 20 فیصد سے زیادہ ہے۔ پچاسی پارلیمانی حلقوں میں مسلمان 20 فیصد سے زیادہ ہیں۔4121 اسمبلی حلقوں میں سے 720 میں مسلمان فیصلہ کن پوزیشن میں ہیں۔ اس کے باوجود پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلمانوں کی گرتی ہوئی سیاسی نمائندگی کا بڑا سبب یہ ہے کہ مسلمان متحد ہوکر کسی مسلم امیدوار کو ووٹ نہیں دیتے۔ دوسری طرف مین اسٹریم کی سیاسی جماعتیں بہت کم مسلمانوں کو اپنا امیدوار بناتی ہیں اور اس کے لیے کئی طرح کے دلائل پیش کرتی ہیں۔

Indien Wahlkampf in Gorkhaland Region
مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں گراوٹ صرف قومی سطح یعنی پارلیمان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ صوبائی اسمبلیوں میں بھی گراوٹ کا یہ رجحان دیکھا جاسکتا ہے۔تصویر: DW/P.M. Tewari

ماہر سیاسیات پروفیسر افروز عالم کا کہنا ہے، ’’مسلمانوں کو امیدوار بنانے سے جان بوجھ کر انکار کرنا شمولیتی جمہوریت کے وجود کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں مسلمانوں کو نظر انداز کرنا جمہوری بحران کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دینے کے لیے پارٹیاں دو بے بنیاد جواز پیش کرتی ہیں پہلا یہ کہ وہ جیت نہیں سکیں گے اور دوسری یہ کہ رائے دہندگان کی صف بندی ہوجائے گی۔ لیکن یہ دونوں دلائل شہری کی حیثیت سے یکساں حقوق اور نمائندگی کا یکساں موقع فراہم کرنے کے آئینی حق کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔‘‘
مرکزی جماعتوں کا ٹکٹ حاصل کرنا نہایت اہم

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی مناسب نمائندگی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملک کی مرکزی یا بڑی جماعتوں کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مین اسٹریم پارٹیاں مسلمانوں کو نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ بھارت میں جس طرح ذات پات اور مذہب کے نام پر ووٹوں کی تقسیم ہوتی ہے اسے دیکھتے ہوئے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آنے والے برسوں میں بھی بھارتی مسلمان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود نہیں کرسکیں گے بلکہ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کے سیاسی، سماجی، تعلیمی حتٰی کہ شرعی معاملات میں قانون سازی ملک کی اکثریت کی رائے پر ہی منحصر ہوا کرے گی۔

بھارتی نوجوان کس کو ووٹ دیں گے ؟

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔