1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

باغیوں کے خلاف سرکارکا رویہ نرم ہے، بھارتی اپوزیشن

15 اپریل 2010

بھارتی پارلیمان کے دونوں ہی ایوانوں میں اپوزیشن نے مسلح نکسل باغیوں کے تئیں موجودہ حکومتی پالیسی کے باعث حکمران متحدہ ترقی پسند اتحاد اور وفاقی وزیر داخلہ پی چدم برم پر کڑی تنقید کی ہے۔

https://p.dw.com/p/Mwyk
تصویر: AP

اپوزیشن نے چھ اپریل کو ریاست چھتیس گڑھ میں مسلح نکسل باغیوں کے حملے میں نیم فوجی ’سینٹرل ریزرو پولیس فورس‘ کے 76 اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور حکومت سے باغیوں کے خلاف ’ایکشن پلان‘ کی وضاحت طلب کی۔

ایک ماہ کے وقفے کے بعد جمعرات کے روز جب بھارتی پارلیمنٹ میں بجٹ سیشن دوبارہ شروع ہوا تو لوک سبھا اور راجیا سبھا، دونوں ہی ایوانوں میں زبردست ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کا مسلح ماوٴ نواز باغیوں کے تئیں رویہ ’’انتہائی نرم‘‘ ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں حکومت کے خلاف مورچے کی قیادت سنبھالی۔ لوک سبھا میں ’بھاجپا‘ لیڈر یشونت سنہا نے حکومت پر وار کیا جبکہ راجیا سبھا میں ارون جیٹلی نے حکمران اتحاد کی خبر لی۔

ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں بی جے پی کے رہنما یشونت سنہا نے دعویٰ کیا کہ کانگریس کی سربراہی والی حکومت نے سیاسی مفادات کی خاطر ریاست آندھرا پردیش میں نکسل باغیوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا، جس سے باغیوں کو حوصلہ ملا۔’’متحدہ ترقی پسند اتحاد نے یہ پیغام دیا کہ وفاقی حکومت دہشت گردوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر راضی ہے۔ حکومت نے محض سیاسی فائدے کے لئے آندھرا میں مسلح ماوٴ نوازوں کے ساتھ معاہدہ کیا۔‘‘

اپوزیشن کے رہنماوٴں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکومت چھتیس گڑھ جیسے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔

Indien Maoisten Anschlag
چھ اپریل کو ریاست چھتیس گڑھ میں مسلح نکسل باغیوں کے حملے میں نیم فوجی ’سینٹرل ریزرو پولیس فورس‘ کے 76 اہلکار مارے گئے تھےتصویر: AP

ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں لوک سبھا اور راجیا سبھا میں معمول کی کارروائی تین مرتبہ معطل کرنا پڑی۔ بعد ازاں بھارتی وزیر داخلہ پی چدم برم نے پارلیمان سے خطاب میں کہا کہ نکسل باغیوں سے نمٹنے کے لئے ’’مضبوط ارادے ، مضبوط دل اور زبردست طاقت کے مظاہرے‘‘ کی ضرورت ہے۔ چدم برم نے یہ بات دہرائی کہ ماوٴ نوازوں سے نمٹنے کی ’اصل اور ابتدائی ذمہ داری‘ ریاستی حکومتوں کی ہی ہے۔

گزشتہ ہفتے ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع دانتے واڈا میں نکسل باغیوں کے منظم حملوں میں کم از کم 76 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے، جس کے بعد کئی حلقوں نے ماوٴ نوازوں کے خلاف موجودہ حکومتی پالیسی پر شدید نکتہ چینی کی۔

ایوان بالا یعنی راجیا سبھا میں بی جے پی کے رہنما ارون جیٹلی نے کہا کہ حزب اختلاف نے ہوم منسٹر چدم برم کا بھرپور ساتھ دیا تاہم مسٹر جیٹلی نے ساتھ ہی کہا کہ کانگریس پارٹی اندرونی خلفشار کی شکار ہے۔’’ہم نے وزیر داخلہ پی چدم برم کو مستعفی ہونے کے لئے نہیں کہا کیونکہ ہم ماوٴ نوازوں کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔‘‘ تاہم جیٹلی نے کہا کہ کانگریس خود ہی اندرونی تنازعات کی شکار ہے، جو گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں منظر عام پر بھی آئے ہیں۔

Palaniappan Chidambaram Innenminister Indien
وزیر داخلہ پی چدم برم نے پارلیمان سے خطاب میں کہا کہ نکسل باغیوں سے نمٹنے کی اصل اور ابتدائی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہی ہےتصویر: AP

دوسری جانب ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وفاقی وزیر ممتا بینرجی بھی نئی دہلی حکومت پر مسلسل تنقید کر رہی ہیں۔ ریاست مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والی اس سیاست دان نے بدھ کو کہا تھا کہ بنگال کے علاقے لال گڑھ میں ایک بھی نکسل باغی موجود نہیں ہے۔’’لال گڑھ میں ایک بھی ماوٴ نواز نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ سے ہی مغربی بنگال میں آپریشن کے خلاف رہے ہیں۔‘‘

بھارت سے تعلق رکھنے والے دفاعی تجزیہ نگار راُہل بیدی کے مطابق نکسلیوں کے خلاف بہتر نتائج حاصل کرنے کے لئے متاثرہ علاقوں میں ترقی بہت ضروری ہے۔ مسٹر بیدی کہتے ہیں کہ مقامی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو مزید مضبوط بنانے، انہیں جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور بہتر تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ بیدی مزید کہتے ہیں کہ مسئلے کے حل کے لئے دو محاذوں پر لڑنا ہوگا۔’’اس وقت ماوٴ نواز باغی بھارت کی اٹھائیس ریاستوں میں سے تقریباً بیس میں موجود ہیں۔ 625 اضلاع میں سے 250 میں نکسل باغی سرگرم ہیں جبکہ تقریباً 100میں انہیں مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ ان اضلاع میں ماوٴنوازوں کی ہی رٹ قائم ہے۔‘‘

ماوٴ نوازوں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین گزشتہ بیس برسوں سے جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

بھارتی حکومت نے کئی ریاستوں میں ماوٴ نوازوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نکسلیوں کی پر تشدد کارروائیوں کو ملک کی داخلی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی

ادارت: شادی خان سیف

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں