1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ایران پر حملہ ناقابل یقین نتائج کا حامل ہو گا ، پنیٹا کا انتباہ

11 نومبر 2011

امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے ایران پر ممکنہ حملے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تہران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش مکمل طور پر ختم نہیں کی جاسکتی لیکن اس سے خطے میں’سنگین نتائج‘ برآمد ہو سکتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/138oe
امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹاتصویر: AP

جمعرات کو امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے اسرائیل کی طرف سے ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کی خبروں کے تناظر میں کہا، ’آپ کو اس حوالے سے محتاط رہنا چاہیے کیونکہ اس سے ’ناقابل یقین نتائج‘ برآمد ہو سکتے ہیں‘۔

لیون پنیٹا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ اگر اسرائیل نے تہران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو اس سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ گزشتہ ویک اینڈ پر اسرائیلی صدر شعمون پیریز نے کہا تھا کہ ایران پر حملے کا وقت قریب آ چکا ہے۔

NO FLASH NATO Verteidigungsminister Brüssel Belgien Treffen
سابق امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی کہا تھا کہ ایران پر حملہ حل نہیں ہےتصویر: AP

مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا، ’ایران پر حملے کی صورت میں جو نتائج برآمد ہوں گے، ان سے خطے میں سنگینی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں تعینات امریکی افواج کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے عزائم کو مکمل طور ختم نہیں کیا جا سکتا۔

پینٹا گون کے سربراہ نے مزید کہا کہ وہ اپنے پس رو سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس سے متفق ہیں کہ ایران پر بمباری کی صورت میں اس کا جوہری پروگرام تقریباً تین برسوں کے لیے تعطل کا شکار کیا جا سکےگا۔

امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی جائیں، ’ایران پر حملہ آخری راستہ ہونا چاہیے‘۔ لیون پنیٹا سے جب یہ پوچھا گیا کہ اگر ایران پر پابندیوں نے کام نہ کیا تو کیا ہو گا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر عالمی برداری کو یکجا ہو کر فیصلہ کرنا ہو گا اور تہران حکومت پر واضح  کرنا ہو گا کہ اگر اس نے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش جاری رکھی تو اسے بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے تنازعے کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایران حکومت کو ایسے شواہد فراہم کرنے چاہیئں کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ ایران ان الزامات کو ہمیشہ ہی مسترد کرتا آیا ہے۔

رپورٹ:  عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں