1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اوباما دور کے پہلے سال کا میزانیہ: ایک تبصرہ

20 جنوری 2010

باراک اوباما نے ایک سال قبل امریکہ کی داخلی اور خارجہ سياست ميں تبديلیوں کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اپنے دور صدارت کے پہلے ہی سال انہیں تجربہ ہو گیا ہے کہ یہ تبديلیاں اتنی آسان نہيں ہیں۔ واشنگٹن سے کرسٹينا بیرگمن کا تبصرہ :

https://p.dw.com/p/Lc2F
تصویر: AP

بیس جنوری کا مطلب ہے کہ باراک اوباما کو صدارتی ذمہ داریاں سنبھالے ايک سال ہو گیا ہے۔ ليکن گوانتانامو کا قيد خانہ ابھی تک بند نہيں کيا جاسکا، صحت کے شعبے میں اصلاحات کو کانگريس نے تراميم کے ذريعے اس قدر تبديل کرديا ہے کہ ان کی شناخت بھی ممکن نہيں رہی،عراقی جنگ کی جگہ افغانستان کی جنگ نے لے لی ہے اور امريکی معیشت کی حالت بھی ابھی تک کمزور ہے۔

ان حالات کا اندازہ نہ تو صدر اوباما اور نہ ہی ان کے ووٹروں کو تھا۔ اوباما بڑے جوش و جذبے کے ساتھ اپنی انتخابی مہم کے بعد وائٹ ہاؤس ميں داخل ہوئے تھے۔ وہ تيزی سے اپنے انتخابی وعدوں کو پورا کرنا چاہتے تھے۔ بعض امور ميں انہيں کاميابی بھی ملی۔ يکساں کام کے بدلے مردوں کے برابر تنخواہوں کے لئے مقدمات دائر کرنے والی خواتین کواب زيادہ حقوق حاصل ہيں۔ موروثی خليات پر ريسرچ کرنے والے سائنسدان خوش ہيں کہ انہيں زيادہ آزادياں مل گئی ہيں۔

صدر اوباما کو حکومت سنبھالنے کے ساتھ ہی ساری توجہ اقتصادی بحران پر دينا پڑی۔ انہوں نے اقتصاديات کو سنبھالا دينے کے لئے رياست کی طرف سے اربوں کے قرضے ديے، ليکن اس کے ساتھ ہی حقیقی اصلاحات ميں تاخير بھی ہوئی۔ نظام صحت ميں اصلاحات کو داخلی سياست کی سمت ميں پہلی بڑی تبديلی بننا تھا۔ اوباما پچھلے سال گرمیوں تک اسے مکمل کر لينا چاہتے تھے۔ تاہم امریکی صدر نے ايک فيصلہ کن غلطی کی: انہوں نے اس بارے ميں مذاکرات کو مکمل طور پر کانگريس اور اس طرح پرانے کھلاڑيوں کے حوالے کر ديا۔

جس شخص نے اپنی تندہی اور شخصی کشش کے ذريعے امريکہ کا پہلا افريقی نژاد صدر بننے ميں کاميابی حاصل کی تھی، وہ اس حوالے سے توجہ کا مرکز نہيں رہا۔ ری پبلکن پارٹی نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غلط خبريں پھيلائيں اور خوف کو ابھارا۔ بہت سے ڈيموکريٹ اراکين کانگريس اور سينيٹ نے بھی اجتماعی مفاد کے بجائے اپنے اپنے حاميوں کے لئے زيادہ سے زيادہ فائدے حاصل کرنے کی کوشش کی۔

قوم نے پارٹی حدود سے بالا تر سوچ کے بجائے آپس ميں لڑنے والے دھڑوں ميں رسہ کشی کا وہی عام تماشہ ديکھا جو پہلے بھی ديکھنے ميں آتا تھا۔ تازہ ہوا کے وہ جھونکے ناپيد تھے جن کا وعدہ باراک اوباما نے کيا تھا۔

امريکہ کا لب ولہجہ تبديل ہوگيا ہے۔ ليکن اس کی وجہ سے دنيا فوراً بدل نہيں گئی: ايران کے ساتھ ايٹمی تنازعہ، مشرق وسطیٰ کا مسئلہ، افغانستان اور پاکستان ميں جنگ، يہ سب مسائل بدستور موجود ہيں اور ان کے حل ابھی تک دور دور تک نظر نہيں آتے۔

يوں امريکی صدر اپنے دور صدارت کا دوسرا سال شروع ہونے پر تقريباً انہی تمام مسائل کا سامنا کر رہے ہيں جو انہيں ايک سال پہلے بھی درپيش تھے۔ نظام صحت کی اصلاحات کے بعد، داخلی سياست ميں انہيں بینکاری کی اصلاحات،تعليمی اصلاحات، تارکين وطن سے متعلق پاليسی اور ماحولياتی قوانين پر بھی توجہ دينا ہوگی۔

امريکہ کی اقتصادی حالت اب بھی نازک ہے اور بے روزگاری کی سطح بہت اونچی ہے۔ عنقريب ہونے والے کانگريس کے انتخابات کی وجہ سے صدر اوباما کو مزيد مشکل کا سامنا ہے۔ تاہم ان کے پاس اپنے ہی چنے ہوئے رستے کے علاوہ کوئی اور رستہ نہيں ہے۔ ليکن انہيں زيادہ عزم سے کام لينا ہوگا۔ وہ حالات پر گرفت کھو دينے کے نتائج کے متحمل نہيں ہوسکتے۔

تحریر: کرسٹینا بیرگمن / شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید