1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

اوباما اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

امتیاز احمد25 اگست 2008

گیارہ ستمبر سن دوہزار ایک میں امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات نے امریکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کئے۔

https://p.dw.com/p/F4cX
ستمبر گیارہ 2001 کوتباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ ٹاورزتصویر: AP

ان واقعات کے نتیجے میں نہ صرف اندرون ملک نئے قوانین متعارف کروائے گئے بلکہ افغانستان اور عراق میں جنگی کارروائیوں کا بھی آغاز کیا گیا۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے امریکی صدارتی امیدوار باراک اوبامہ بھی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کس قدر اہم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا باراک اوبامہ بُش کے برعکس دہشت گردی کے خلاف کوئی قابلِ اعتبار پالیسیاں سامنے لا سکیں گے؟

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باراک اوبامہ کے بیانات بالکل واضح ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ بش حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام ہو چکی ہے۔

دہشت گردی کے خلاف بش حکومت کی جنگ کے نتائج یہ ہیں کہ اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھی پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں بنا چکے ہیں۔ وہاں سے وہ اتنی آسانی سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کہ اپنے ریکارڈ کئے ہوئے پیغامات ساری دنیا میں بھیج سکتے ہیں۔ یہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بُش اور مککین کی کوششوں کا نتیجہ۔

صدر بش کی پالیسیوں پر اِس قدر تنقید کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ خود اوبامہ کے پاس کوئی بہتر حل موجود ہے۔ اور درحقیقت اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے ایک پوری حکمتِ عملی تیار کر رکھی ہے۔

میری حکمتِ عملی میں فوج اور خفیہ اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مالی پابندیاں اور سفارتکاری بھی شامل ہو گی۔

USA Vorwahlen Demokraten Barack Obama
امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباماتصویر: AP

باراک اوبامہ بار بار یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکی سلامتی کو کسی براہِ راست خطرے کی صورت میں وہ فوجی اقدامات سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ اور اس سلسلے میں ان کا پاکستان کے لئے پیغام بھی بہت واضع ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں اور پاکستانی فوج نے کچھ نہ کیا تو صدر ہونے کی صورت میں وہ حملے کا حکم جاری کردیں گے۔ اوبامہ القاعدہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اور پاکستان کو کلیدی اہمیت کے حامل ملک تصور کرتے ہیں۔

ہم افغانستان کی امداد میں اضافہ کر دیں گے۔ ہم پاکستان کو بھی مزید مالی امداد فراہم کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔ لیکن بدلے میں ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر القاعدہ اور طالبان کے کیمپوں کے خلاف نمایاں طور پر زیادہ کارروائیاں کرے گا۔

خطے میں فوجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صدارتی امیدوار باراک اوبامہ کی حکمت عملی میں بنیادی اہمیت اِس بات کی ہے کہ افغانستان کو ایک ارب ڈالر زیادہ مالی امداد دی جائے اور پاکستان میں اقتصادی ترقی کے لئے مزید رقم فراہم کی جائے۔ اِس کے علاوہ اوبامہ کی کوشش ہو گی کہ دُنیا بھر میں ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ انتہا پسندوں کو نئے حامی میسر نہ آ سکیں۔ اوبامہ کا تجزیہ یہ ہے کہ دُنیا کے ساٹھ ممالک یا تو جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں یا پھر ٹوٹنے کے قریب ہیں۔ اوبامہ کے مطابق ایسے ممالک انتہا پسندی کا گڑھ ہوتے ہیں اور وہاں اقتصادی امداد کے ذریعےحالات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اوبامہ اِس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ مسلمان ملکوں کے ساتھ براہِ راست مکالمت کی راہ اختیار کی جانی چاہیے۔ اِس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ امریکی سیاست اپنے بنیادی اصولوں کی پاسداری کرے۔ اوبامہ گوانتانامو جیسے متنازعہ حراستی کیمپوں یا پھرقیدیوں پر جبر و تشدد کے بھی حق میں نہیں۔ اُن کے خیال میں امریکہ کے موجودہ عدالتی نظام کی حدود کے اندر رہتے ہوئے مشتبہ دہشت گردوں کے خلاف مقدمے چلائے جا سکتے ہیں۔