1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ہیٹی میں اب ٹامس طوفان: کم از کم 21 ہلاکتیں

9 نومبر 2010

ہیضے کی وبا سے نمٹنے کی جان توڑ کوششیں تو جاری یں کہ زلزلہ سے تباہ حال ملک ہیٹی کو گزشتہ ویک اینڈ پر ’ٹامس‘ نامی سمندری طوفان نے مزید مسائل سے دوچار کر دیا۔ حکام کے مطابق کم از کم اکیس افراد اس طوفان میں ہلاک ہوگئے۔

https://p.dw.com/p/Q23V
ہیٹی میں ٹامس نامی طوفانتصویر: AP

ٹامس نامی یہ طوفان گزشتہ جمعہ کو کیریبیئن جزیرے ’سینٹ لوسیا‘ میں آیا تھا جہاں اس کی زد میں آکر کم از کم 14 افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ اُس کے بعد طوفانی لہریں 135 کیلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہیٹی کی طرف بڑھیں۔ ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرانس کے نواحی علاقوں میں قائم کئے گئے کیمپس میں موجود ہزاروں متاثرین میں اُس وقت افرا تفری اور خوف و ہراس پھیل گیا جب ٹامس طوفان کی لہریں دارالحکومت کی طرف بڑھنا شروع ہوئیں۔

حکام نے طوفان سے انتباہ کرتے ہوئے عارضی کیمپوں میں موجود تیرہ لاکھ افراد سے اپیل کی کہ وہ فوری طور سے محفوظ مقامات کی طرف چلے جائیں۔ کیمپوں سے انخلاء کے لئے بسوں کا استعمال کیا گیا۔ تاہم بسوں کی تعداد کافی نہیں تھی۔ کیمپوں کے بہت سے رہائش پذیروں نے کیمپ چھوڑنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اُن کے پاس سر چھپانے کو کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں ہے۔

Unwetter in Haiti
ہیٹی کے کیمپس میں قیام پذیر افراد طوفان سے خوف زدہتصویر: AP

حالات کی سنگینی سے متنبہ کرتے ہوئے ہیٹی کے صدر نے خود ریڈیو کے ذریعے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ ممکنہ حفاظتی اقدامات کریں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ وافر تعداد میں بسیں میسر نہیں ہیں اس لئے ہر شخص اپنی جان کی حفاظت خود کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر بروئے کار لائے۔

ان کیمپوں میں پہلے سے ہی ہیضے کے شکار افراد کو ضروری طبی امداد فراہم کرنے کا کام حکام کے لئے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ویک اینڈ کے اختتام تک ٹامس کی لہروں کا رُخ پورٹ او پرانس سے ہٹ کر ارد گرد کے ساحلی قصبوں کی طرف مُڑ گیا۔ ساحلی علاقے میں قائم چھوٹے چھوٹے قصبے سیلاب کے پانی کے زور سے تباہ ہوگئے۔ اس کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے لگے جنہوں نے متعدد پُلوں اور سڑکوں کو نیست و نابود کر دیا۔ سب سے زیادہ نقصان جنوب مغربی حصے میں واقع شہر ’لئوگان‘ کو پہنچا۔ اس علاقہ میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ہیٹی کے تقریباً 900 باشندوں کے مکانات تباہ ہو گئے ہیں جبکہ پانچ ہزار کو طوفانی لہروں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

Haiti Hurrikan Tomas
ہیٹی کے حکام نے کہا ہے کہ ٹامس طوفان سے ہیضہ مزید پھیلے گاتصویر: AP

’لئوگان‘ نامی شہر پورٹ او پرانس سے 30 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے وہاں کی انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ہیٹی کی سول ڈیفنس فورس کی ڈائریکٹر ’آلٹا ژاں بیپٹسٹ‘ نے کہا ہے کہ ’لئوگان‘ مکمل طور پر زیر آب ہے۔ انہوں نے حکومت سے اس علاقے کے عوام کو طبی اور دیگر امداد فراہم کرنے کے لئے ایک فوری ایکشن کی اپیل کی ہے۔

ہیٹی کی 10 ملین سے بھی کم کُل آبادی کا تقریباً تمام حصہ ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار ہے۔ رواں سال کے اوائل میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے مسلسل سیلابوں، بارشوں اور مٹی کے تودے گرنے سے جہاں لاتعداد جانیں ضائع ہوئی ہیں وہاں ہیضے جیسی وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں بھی بہت زیادہ دشواریاں ہو رہی ہیں۔ حکام نے طوفان اور بارشوں کے سبب ہیضے کی وبا کے دارالحکومت پورٹ او پرانس تک پھیلنے کے قوی امکانات سے خبر دار کیا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حُسین

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں