1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستانی اینیمیشن انڈسٹری اور اس کا مستقبل

عنبرین فاطمہ، کراچی2 مئی 2014

ساکن تصاویر کو متحرک طریقے سے پردہ اسکرین پر پیش کرنے اور ان میں حقیقت کا رنگ بھرنے کا عمل اینیمیشن کہلاتا ہے۔ اسی شعبے کی بدولت آج پوری دنیا میں اینیمیٹد فلمیں بھی دیگر فلموں ہی کی طرح پسند کی جاتی ہیں۔

https://p.dw.com/p/1Bsni
2013ء کی اس تصویر میں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں بچے ملکی سطح پر تیار ہونے والی ایک کارٹون سیریز دیکھ رہے ہیں
2013ء کی اس تصویر میں پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں بچے ملکی سطح پر تیار ہونے والی ایک کارٹون سیریز دیکھ رہے ہیںتصویر: picture-alliance/AP

فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے لیے اینیمشن کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس انڈسٹری کی پاکستان میں آج کل صورت حال کیا ہے اور مستقبل میں کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔

چند برس قبل پاکستانی ٹیلی وژن اسکرین پر چلنے والے ببل گم کے ایک اشتہار نے بچوں ہی نہیں بلکہ بڑوں کی بھی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے میں بے حد کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کمرشل کی خاص بات یہ تھی کہ یہ مکمل طور پر پاکستانی اینینمیٹرز کا کمال تھا، جنہوں نے مشہور کارٹون ٹام اینڈ جیری کی طرز پر ایک دوسرے کا پیچھا کرتے چوہے اور بلی کا کردار تخلیق کیا۔ پاکستانی اشتہارات میں اینیمیشن کے استعمال کا یہ پہلا موقع تھا۔ اس کے بعد پاکستان میں کمانڈر سیف گارڈ اینیمیشن سیریز کو سب سے زیادہ مقبولیت ملی اور پھر تو جیسے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے سپر ہیرو کرداروں کی تخلیق کا ایک نہ تھمنے والاسلسلہ شروع ہو گیا۔

پاکستانی نژاد اینیمیٹر میر ظفر علی نے 2013ء کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فلم اور وژیول ایفیکٹس کے شعبے میں آسکر جیتنے والی فلم ’فروزن‘ میں ایفیکٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کیا
پاکستانی نژاد اینیمیٹر میر ظفر علی نے 2013ء کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فلم اور وژیول ایفیکٹس کے شعبے میں آسکر جیتنے والی فلم ’فروزن‘ میں ایفیکٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کیاتصویر: picture-alliance/AP Photo

Sharp Image پاکستان میں تھری ڈی اینیمیشن متعارف کروانے اولین اسٹوڈیوز میں سے ایک ہے، جس کے شریک بانی امین فاروقی پاکستان میں اینیمیشن کے شعبے میں ہونے والے کام کو بین الاقوامی معیار کا قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’’کوالٹی کو مد نظر رکھا جائے تو پاکستان میں بہت اچھا کام ہو رہا ہے لیکن مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک کا عالمی سطح پر جو امیج یا تصور ہے، اس کی وجہ سے بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے بہت زیادہ بزنس پاکستان نہیں آتا۔ اکثر کمپنیاں ملک کا نام سن کر ہی یہاں آنے کا کام کروانے سے منع کر دیتی ہیں۔‘‘

امین فاروقی کے مطابق زیادہ تر بین الاقوامی کمپنیاں، جو پاکستانی اینیمیٹرز کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہیں، اشتہارات کے لیے نہیں بلکہ بڑے پراجیکٹس کے لیے رابطہ کرتی ہیں۔

’برقع ایونجر‘ کے نام سے پاکستان میں تیار کی جانے والی کارٹون سیریز میں سپر ہیرو کے کردار میں ایک لڑکی کو پیش کیا گیا ہے
’برقع ایونجر‘ کے نام سے پاکستان میں تیار کی جانے والی کارٹون سیریز میں سپر ہیرو کے کردار میں ایک لڑکی کو پیش کیا گیا ہےتصویر: picture-alliance/AP

آج کل پاکستانی اینیمیٹرز نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ہالی وڈ سمیت بین الاقوامی اداروں کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ انہی اینیمیشن ماہرین میں سے ایک عاصم فدا حسین بھی ہیں جو پاکستان سے باہر بھی اینیمیشن کے شعبے کے بین الاقوامی ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ’ہیری پوٹر اینڈ ڈیتھلی ہالوز‘، ’جی آئی جو‘ اور ’سنو وائٹ اینڈ ہنٹس مین‘ جیسی سپرہٹ ہالی وڈ فلموں کی اینیمیشن ٹیم میں شریک رہے ہیں۔

اس کے علاوہ ایک اور پاکستانی نژاد اینیمیٹر میر ظفر علی نے 2013ء کی سب سے کامیاب اینیمیٹڈ فلم اور وژیول ایفیکٹس کے شعبے میں آسکر جیتنے والی فلم ’فروزن‘ میں ایفیکٹ کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کیا ہے۔

پاکستان میں اس وقت کئی ایسے ادارے ہیں، جو بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہی میں شہریار حیدری کی کمپنی Trango Interactive بھی شامل ہے۔ ان کے کلائنٹس میں Sega، Hyaundai، Mazda، UPS، Audi، اور Nike جیسی مشہور کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے ڈسکوری چینل کے لیے بھی دستاویزی فلموں پر کام کیا ہے۔

بین الاقوامی اینیمیشن مارکیٹ میں پاکستان کا جھنڈا گاڑنے والوں میں Ice Animations بھی قابل ذکر ہے۔ یہ ملک کا وہ پہلا اینیمیشن اسٹوڈیو ہے، جو کسی جرمن اینیمیشن کمپنی کے ساتھ مل کر ان کے ایک پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے۔ Ice animations کے چیف ایگزیکٹو آصف اقبال نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی کمپنی زیادہ تر بین الاقوامی پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں کس سطح کا کام ہو رہا ہے۔

ہالی وُڈ کی فلم ’سنو وائٹ اینڈ ہنٹس مین‘ کی اینیمیشن ٹیم میں پاکستان کے اینیمیشن ماہر عاصم فدا حسین بھی شامل رہے، جو پاکستان سے باہر بھی اینیمیشن کے شعبے کے بین الاقوامی ماہرین میں شمار ہوتے ہیں
ہالی وُڈ کی فلم ’سنو وائٹ اینڈ ہنٹس مین‘ کی اینیمیشن ٹیم میں پاکستان کے اینیمیشن ماہر عاصم فدا حسین بھی شامل رہے، جو پاکستان سے باہر بھی اینیمیشن کے شعبے کے بین الاقوامی ماہرین میں شمار ہوتے ہیںتصویر: dapd

آصف اقبال نے بتایا:’’ہم نے متحدہ عرب امارات کے لیے ایک کارٹون سیریز تخلیق کی تھی، جس کا نام ہے ’’منصور‘‘۔ اس سیریز کو اب ری ایڈٹ کرنے کے بعد کارٹون نیٹ ورک پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کارٹون نیٹ ورک پر ایسی کوئی سیریز پیش کی جا رہی ہے، جو پہلے ہی کسی اور ملک میں یا کسی اور چینل پر چلائی گئی ہو۔ تو یہ ہمارے لیے ایک بڑے اعزاز کی بات ہے کہ ہمارے کام کو اس طرح پذیرائی ملی ہے۔‘‘

آصف اقبال کے مطابق ملک میں اینیمیشن کے حوالے سے کام تو ہو رہا ہے لیکن یہ اتنے بڑے پیمانے پر نہیں ہے:’’عام طور پر کمپنیوں کو مالی سپورٹ چاہیے ہوتی ہے۔ ہماری کمپنیاں اس طرح سپورٹ نہیں حاصل کر پاتیں، جس طرح بھارت یا ملیشیا یا اسی طرح کے دوسرے ممالک کو حکومت کی جانب سے ملتی ہے۔ اس طرح بین الاقوامی اینیمیشن مارکیٹ کے لیے کام کے ذریعے ان ممالک کو زرمبادلہ مل رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے اہم ہے۔ پاکستان میں یہ سپورٹ بالکل بھی موجود نہیں۔ پھر یہاں نئے تخلیق کاروں کے لیے تربیت کا بھی ابھی تک کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے، جو کہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

آصف اقبال کے مطابق اگر پاکستانی حکومت اس انڈسٹری کو مالی معاونت اور تعاون فراہم کرے تو یہ انڈسٹری ملک کے لیے زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں