1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاناما سے اقامہ تک، نواز شریف کا احتساب: تبصرہ

28 جولائی 2017

پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیے جانے پر ڈی ڈبلیو شعبہء اردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ:

https://p.dw.com/p/2hKZb
Pakistan Premierminister Nawaz Sharif, Untersuchungsausschuss
تصویر: Reuters/F. Mahmood

پاکستان کی سُپریم کورٹ نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد اور انتہائی اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ایک پانچ رُکنی بنچ نے نا اہل قرار دے دیا ہے۔

نیز وزیراعظم اور اُن کے خاندان کے خلاف بدعنوانی سے متعلق دستاویزات عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیج دی ہیں اور حکم دیا ہے کہ ان پر فیصلہ چھ ماہ کے اندر اندر کر دیا جانا چاہیے۔ محمد نوازشریف نے پاکستان کی عدالت عُظمیٰ کے فیصلے کے سامنے آنے کے بعد وزارت عظمیٰ سے دست بردار ہونے کا اعلان بھی کر دیا اور اس کے ساتھ ہی ملکی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی۔ نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے ایک اہم نکتے کو مزید اُجاگر کرنے کا سبب بنا ہے۔ وہ یہ کہ اس ملک کی 70 سالہ تاریخ میں اب تک کوئی بھی منتخب وزیراعظم اپنی پانچ سالہ مدت مکمل نہیں کر پایا۔ زیادہ تر سول حکومتوں کا خاتمہ یا تو پاکستان کی مضبوط فوج کے ہاتھوں ہوا یا سپریم کورٹ کے ہاتھوں یا پھر جمہوری حکومتوں کے رہنماؤں کو یا تو خود اُن کی پارٹی کی طرف سے دباؤ کے تحت برطرف ہونا پڑا یا انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

نوازشریف کو ایک بڑا دھچکا یہ بھی لگا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا ہے کہ نواز شریف کو پارلیمانی رکنیت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اب جبکہ اُن کا وزارت عُظمیٰ کا تیسرا دور اپنی پانچ سالہ مدت سے پہلے ہی ختم ہو چُکا اور ان کا پارلیمانی سیاسی مستقبل بھی تاریک دکھائی دے رہا ہے۔ نواز شریف پارٹی کے صدر بھی نہیں رہ سکیں گے، پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002ء کے تحت اسمبلی کی رکنیت کے لیے کوئی نااہل شخص پارٹی عہدہ بھی نہیں رکھ سکتا ہے۔

حسن، حُسین، مریم اور نواز شریف کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر، یعنی پورے گھرانے پر لگے کرپشن چارجز کی مزید چھان بین اب نیب کرے گی۔ مریم نوازشریف جو گزشتہ کچھ عرصے سے رائے عامہ کے سامنے خود کو پاکستان کی آئندہ وزیراعظم کی حیثیت سے پیش کر رہی تھیں، ان پر بھی کڑا وقت ہے۔

Mustafa Kishwar Kommentarbild App
ڈی ڈبلیو شعبہ اردو کی سربراہ کشور مصطفیٰ

پاکستان میں اس وقت ایک طبقہ سُپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کو ملک میں جمہوری قوتوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی قرار دے رہا ہے اور چند تجزیہ کاروں کے خیال میں اس سے ملکی سیاسی استحکام کو بھی دھچکا لگے گا۔ دوسری طرف عوام کا یہ کہنا ہے کہ وہ ملک میں پائی جانے والی بدعنوانی اور اس کے سدباب کے لیے کہیں کسی ٹھوس احتساب کے عمل کی عدم موجودگی پر انتہائی مایوسی کا شکار ہو چُکے تھے۔ اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے امید کی ایک نئی کرن پیدا کی ہے۔ اب عوام اس امید پر ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھ رہے ہیں کہ ’احتساب کا جو سلسلہ‘ شروع ہوا ہے وہ پاکستان کے مستقبل کے لیے بہت بہتر ثابت ہوگا۔

نواز شریف کو نااہل قرار دینے کی سب سے بڑی وجہ پارلیمان کے سامنے پاناما لیکس کے حوالے سے اپنے خلاف لگے الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئی دروغ گوئی بنی۔ رہی سہی کسر قطری شہزادے کے انکشافات نے پوری کر دی۔ جس سے یہ ثابت ہو گیا کہ نواز شریف اپنے غیر ملکی اثاثوں اور ملکیت کی وضاحت دینے کی بجائے انہیں  چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔

معاملہ صرف ایک شخص یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلے ہوئے بدعنوانی کے ناسور کا ہے جو دیگر وجوہات کے علاوہ ملک میں غربت، بے روزگاری، تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کی ابتری کی وجہ ہے۔ پاکستانی عوام جذباتی بھی ہیں اور بہت حد تک سادہ لوح بھی۔ یہ سیاسی لیڈروں کے وعدوں کے سحر میں آجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر فوج انہیں معاشرتی ترقی اور امن و استحکام کے سبز باغ دکھائے تو یہ فوجی حکومت کو بطور متبادل بھی قبول کر لیتے ہیں۔ لیکن فوجی حکومت کسی بھی ملک اور قوم کے لیے کوئی بہتر مبتادل نہیں ہو سکتی۔ پاکستانی عوام کا بھی ایک جمہوری معاشرے میں رہنے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ کسی اور قوم کا ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی ایک لیڈر پاکستانی عوام کو اُس کے خوابوں کی تعبیر دے سکتا ہے؟ اس وقت مضبوط، سچی اور مخلص لیڈرشپ پاکستان اور اس کے عوام کی اولین ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی آئندہ قیادت کی ذمہ داری کس کے سُپرد ہوگی؟