1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

حکومتيں مہاجرين کی جانيں نہيں بچا سکتيں تو ہم بچائيں گے

عاصم سليم26 اپریل 2016

امدادی ادارے ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے بحيرہ روم ميں تارکين وطن کو بچانے سے متعلق اپنا آپريشن بحال کرنے کا اعلان کيا ہے۔ ادارے نے يورپی حکومتوں پر تنقيد کی کہ وہ سمندر ميں مشکلات ميں پھنسے مہاجرين کی مدد ميں ناکام رہيں۔

https://p.dw.com/p/1Icmd
Griechenland Rettung Flüchtlingsboot Lesbos
تصویر: Reuters/Y. Behrakis

طبی امداد فراہم کرنے والی فرانسيسی امدادی تنظيم Medecins sans Frontieres نے پير کے دن اعلان کيا ہے کہ بحيرہ روم ميں مشکلات کا سامنا کرنے والے مہاجرين کی مدد کے ليے بحری آپريشن دوبارہ شروع کيا جا رہا ہے۔ اس ادارے نے رواں سال جنوری ميں اپنا يہ ريسکيو پروگرام يہ کہتے ہوئے معطل کر ديا تھا کہ شمالی افريقہ سے يورپ تک پہنچنے کی کوششوں کے دوران سمندر ميں حادثات کا شکار ہونے والے مہاجرين کے ريسکيو کی ذمہ داری يورپی يونين کی رکن رياستيں اٹھائيں گی۔ تاہم اب اس ہفتے کے آغاز پر MSF نے يورپی حکومتوں پر تنقيد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مہاجرين کی سمندروں ميں مشکلات دور کرنے کے ليے مناسب اقدامات کرنے ميں ناکام ثابت ہوئی ہيں۔

’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی جانب سے جاری کردہ تازہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی بحيرہ روم کے ذريعے ليبيا سے اٹلی تک کا سفر طے کرنے والوں کی تعداد ميں اضافہ ممکن ہے اور اسی سبب ان مہاجرين کے خطرناک سمندر ميں ڈوب کر ہلاک ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہيں۔ MSF کے بيان ميں کہا گيا کہ، ’’موجودہ مہاجرين کے بحران کے کسی عالمی سطح کے حل کی عدم موجودگی، يورپی رياستوں کی دفاع پر مبنی پاليسيوں اور پناہ گزينوں کو خطرناک راستے کی بجائے ہجرت کے محفوظ راستے فراہم کرنے ميں ناکامی کے سبب ہزارہا افراد ہلاک ہو رہے ہيں۔‘‘ يہ بيان MSF انٹرنيشنل کی صدر يوہانے ليوو نے ديا۔

پچھلے سال يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران سمندر ميں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,771 تھی
پچھلے سال يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران سمندر ميں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3,771 تھیتصویر: Reuters/A. Konstantinidis

دريں اثناء يورپی حکومتوں نے گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز مشترکہ يورپی بارڈر اور کوسٹ گارڈ فورس کے قيام پر اتفاق کر ليا ہے، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ اور افريقہ سے آنے والے تارکين وطن کو کنٹرول کرنا بتايا گيا ہے۔ يہ فورس ممکنہ طور پر رواں سال موسم گرما ميں فعال ہو جائے گی۔

يہ امر اہم ہے کہ ليبيا سے اٹلی تک کے سفر کو ترکی سے يونان تک کے سفر کے مقابلے ميں زيادہ خطرناک مانا جاتا ہے اور اس روٹ پر واقع ہونے والی اموات کی شرح بھی مقابلتاً زيادہ ہے۔ ليبيا ميں سياسی بے يقينی اور عدم استحکام کی صورتحال اور قانون کی بالادستی کے فقدان کے سبب وہاں سے انسانوں کی اسمگلنگ آسان ہے۔ بين الاقوامی ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران بارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں۔